Sunday, 18 June, 2006, 15:16 GMT 20:16 PST
عبدالحئی کاکڑ
پشاور
صحافی حیات اللہ کی بیوی نےالزام لگایا ہے کہ خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں نے حیات اللہ سے القا عدہ کے اہم رکن ابوحمزہ کی امریکی حملے میں ہلاکت کی خبر چھپوا کر انھیں ایک سوجھی سمجھی سازش کے تحت اغواء کر کے ہلاک کیا گیا ہے۔
بی بی سی اردو ڈاٹ کام سےبات کرتے ہوئے حیات اللہ کی بیوی مہرالنساء نے دعوی کیا کہ ابوحمزہ کی ہلاکت کے دوسرے روز یعنی دو دسمبر کو خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں نے رات کو فون کرکے خبر چپھوانے کا تقاضہ کیا۔
" رات کے تقریباً آٹھ بجے پاکستان کی خفیہ اداروں کے افسران نے بیس سے زیادہ بار فون کیا اور حیات اللہ سے کہا کہ ابو حمزہ امریکن گائیڈڈ میزائل کا نشان بنے ہیں لہذا آپ یہ خبر چھاپ دیں۔
میں نےحیات اللہ سے کہا کہ یہ آپکے دشمن ہیں مگر انہوں نے میری بات نہیں مانی۔ میں اب بھی ان حکومتی اہلکاروں کے نام جانتی ہوں جو حیات اللہ کے اغواء میں ملوث ہیں۔
تیرے دشمن ہیں |
مہرالنساء نے،جو میرعلی گرلز سکول میں استانی ہے، وزیراعظم شوکت عزیز کی جانب سے حیات اللہ کے قتل کی عدالتی تحقیقات کے ردعمل میں کہا کہ شوکت عزیز اور صدر جنرل پرویز مشرف کو حیات اللہ کے اغواء کا پورا علم تھا۔
ہم نے میڈیا کے ذریعے ان سے اپیلیں کیں اور میڈیا کے عالمی اداروں نے بھی اعلی حکومتی اہلکاروں سے ملاقاتیں کیں اور انہیں انکی بازیابی کی یقین دہانیاں بھی کرائی گئیں۔
مہرالنساء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حیات اللہ کے قاتلوں کو ہر حالت میں کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔
انٹرویو کے دوران مہرالنساء کو گلے کی خرابی کی وجہ سے بولنے میں دقت پیش آرہی تھی۔کسی قبائلی خاتون کی طرف سے میڈیا کے ساتھ بات کرنا ایک غیر معمولی بات ہے۔
مہرالنساء نے حیات اللہ کی بات دہراتے ہوئے کہا کہ میں اگر مرگیا تو شہید اور اگر زندہ رہا تو ہیرو ہونگا‘۔
حیات اللہ کی ماں نے بھی بی بی سی سے اپنے بیٹے کی ہلاکت کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ انکا بیٹا شہید ہے جنہوں نے حق کی خاطر قلم چلاتے ہوئے جان دی۔
ایک سوال پر کہ جب حیات اللہ کی موت کی خبر پہنچی توان پر کیا گزری تو انھوں نے کہا:’جونہی میں نے انکی لاش دیکھی تو انکی داڑھی بڑھی ہوئی تھی میں نے بنا روئے انکو مخاطب کرتے ہوے کہا حیات اللہ؛ تمہیں شہادت مبارک ہو،۔