http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 16 June, 2006, 22:12 GMT 03:12 PST

علی سلمان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

پولیس: ملزم بہنوں سے جنسی زیادتی

پاکستانی پنجاب کے شہر گوجرانوالہ میں مقامی عدالت نے چار پولیس اہلکاروں کے خلاف دو سگی بہنوں کی آبرو ریزی کا مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا ہے۔

جنسی زیادتی کے تین مجرموں کو پھانسی

سترہ اور اٹھارہ سال کی یہ دوبہنیں پانچ مہینے سے پولیس کی حراست میں ہیں اور پولیس نے ان پر ڈکیتی کا الزام عائد کر رکھا ہے۔

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج گوجرانوالہ عابد حسین قریشی نے مقدمہ درج کرنے کا حکم متاثرہ لڑکیوں کے والد محمد بشیر کی طرف سے دائر کردہ ایک درخواست پر جاری کیا ہے۔

سٹیلائٹ ٹاؤن کے رہائشی عابد حسین قریشی نے کہا ہے کہ مقامی تھانےکے انچارج انسپکٹر، سب انسپکٹر اور دو پولیس کانسٹیبلوں نے ان کی بیٹیوں سے تھانے کے اندر اس وقت مبینہ اجتماعی زیادتی کی جب وہ پولیس کی حراست میں تھیں۔

ان دونوں لڑکیوں کو پولیس نے بارہ فروری کو ان کے گھر پر چھاپے کے بعد ان کے بھائیوں سمیت گرفتار کیا تھا اور ان پر ڈکیتی میں ملوث ہونے کا الزام لگایا تھا بعد میں عدالت سے ان کی ضمانت نہ ہونے کی وجہ سے انہیں جیل بھجوا دیا۔

متاثرہ بہنوں کے والد نے کہنا ہے کہ گرفتاری کے دو روز بعد ہی تھانہ سٹیلائٹ ٹاؤن میں ان کی آبرو ریزی کی گئی تھی لیکن وہ پولیس کے خوف سے خاموش رہیں اور ایک بار انہوں نے طبی معائنہ کرانے سے بھی انکار کیا تاہم جب انہیں عدالتی تحویل میں جیل بھجوا دیا گیا تو ان کے والد کی استدعا پر سول ہسپتال گوجرانوالہ میں ان کا طبی معائنہ کیا گیا۔

میڈیکل بورڈ کی ابتدائی رپورٹ میں دونوں بہنوں کی آبرو ریزی کی تصدیق کی گئی ہے۔

عدالت نے اجتماعی آبروریزی کا مقدمہ درج کرنے کی ہدایت کی ہے۔ قانون کے مطابق پاکستان میں اجتماعی آبروریزی کی سزاموت ہے۔ کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی متاثرہ لڑکیاں پہلے سے جیل میں ہیں۔