http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 16 June, 2006, 12:29 GMT 17:29 PST

ندیم سعید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ملتان

توہین رسالت کا ملزم قتل

پنجاب کے جنوبی ضلع مظفر گڑھ میں توہین رسالت کے الزام میں گرفتار ایک شخص کو دو حملہ آوروں نے خنجر کے پے درپے وار کر کے اس وقت قتل کردیا جب وہ اپنے زیرِ سماعت مقدمے کی پیشی بھگتنے پولیس کی نگرانی میں کمرہ عدالت سے باہر نکل رہا تھا۔

قرآن کی مبینہ بے حرمتی پر قتل

عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور عدالت کے قریب واقع افسر مال جی ایم ریاض کے دفتر کی اوٹ میں چھپے ہوئے تھے اور جونہی عبدالستار گوپانگ کمرہ عدالت سے باہر نکلا تو انہوں نے اس پر حملہ کر دیا اور پولیس کی طرف سے پکڑے جانے تک وہ توہین رسالت کے ملزم پر خنجروں سے مسلسل وار کرتے رہے۔

تاہم مظفرگڑھ کے قائم مقام ضلعی پولیس افسر ایس پی زبیر دریشک کا کہنا ہے کہ پولیس نے حملہ آوروں کو اس وقت گرفتار کیا جب وہ موقع سے فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ اپنے دعوے کی تصدیق میں ان کا کہنا تھا کہ حملہ آوروں نے دستانے پہن رکھے تھے تاکہ ان کی انگلیوں کے نشانات نہ آئیں۔

عبدالستار گوپانگ کو اس سال تیرہ مارچ کے روز عالمی مجلسِ تحفظِ ختمِ نبوت کے مقامی عہدیدار مولانا عبدالرشید کی طرف سے لگائے گئے توہین رسالت کے الزام کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔

ستار گوپانگ مظفر گڑھ میں جتوئی کے علاقے میں ایک یونین کونسل کی طرف سے راہداری ٹیکس وصول کرنے کے ٹھیکیدار تھے اور ان کا دفتر مولانا رشید کے زیر انتظام چلنے والے دینی مدرسے کے قریب واقع تھا۔ وقوعہ کے روز ستار اور ایک ٹرک ڈرائیور محمد اکرم کے درمیان راہداری فیس کے مسئلے پر تکرار ہوئی اور مولانا رشید کے مطابق اس دوران ستار نے مقدس ہستیوں کے بارے میں نازیبا کلمات استعمال کیئے۔