Friday, 16 June, 2006, 01:16 GMT 06:16 PST
اعجاز مہر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پہلی بار پنجاب سے تعلق رکھنے والے کئی اراکین اسمبلی نے فوجی جرنیلوں کو بدعنوان قرار دیتے ہوئے فوج کو کڑی نکتہ چینی کا نشانہ بنایا اور بلوچستان میں جاری فوجی کارروائی کو ملک توڑنے کی کوشش کے مترادف قرار دیا ہے۔
بحث سمیٹتے ہوئے وزیرِ مملکت برائے خزانہ عمر ایوب خان نے ایوان کو مطلع کیا کہ پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ نے بجٹ میں چھتیس ترامیم کی سفارش کی تھی جس میں سولہ منظور کرلی گئی ہیں۔
انہوں نے تفصیلات تو نہیں بتائیں لیکن سینیٹ سیکریٹریٹ سے جب یہ سفارشات قومی اسمبلی کو بھیجی گئی تھیں تو اس وقت میڈیاکو بتایا گیا تھا کہ سینیٹ نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں پندرہ فیصد کے بجائے ساڑھے سترہ فیصد اضافہ کرنے کی سفارش بھی کی تھی۔
مخالفت برائے مخالفت |
وزیر مملکت برائے خزانہ عمر ایوب نے کہا کہ ان کی حکومت کی اہم کامیابی معاشی عدم توازن سے چھٹکارہ حاصل کرنا ہے۔ ان کے مطابق حزب مخالف کو جب کوئی تنقیدی پہلو نہیں ملتا تو وہ مخالفت برائے مخالفت کرتے رہے۔
انہوں نے حزب مخالف سے کہا کہ وہ حکومت کی مخالفت بیشک کرتے رہیں لیکن اس چکر میں ملک کو نقصان نہ پہنچائیں۔ انہوں نے نئے بجٹ میں عوام کے لیے اعلان کردہ مراعات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
ان سے پہلے وزیراعظم شوکت عزیز نے بھی بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے حزب مخالف کی جانب سے بجٹ کے اعداد و شمار غلط اور متضاد ہونے کا دعویٰ مسترد کردیا اور کہا کہ جب مثبت اعداد و شمار ہیں تو حزب مخالف کو تسلیم کرنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا سن انیس سو ننانوے میں جو معاشی حالات تھے حزب مخالف کو انہیں بھولنا نہیں چاہیے۔
چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ ان کی حکومت نے بہتر بجٹ پیش کیا ہے اور حکومت کی خواہش ہے کہ تمام صوبوں کو ساتھ لے کر چلے تاکہ وفاق پاکستان مضبوط ہو۔
حزب مخالف کی جانب سے بیشتر اراکین نے بجٹ تقاریر میں جہاں حکومتی مراعات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے اعتبار سے مراعات آٹے میں نمک کے برابر ہیں وہاں اپنے علاقوں کے مسائل کے ساتھ ساتھ بلوچستان اور وزیرستان میں جاری فوجی کارروائی کی سخت مذمت کی۔
گزشتہ ایک ہفتے سے قومی اسمبلی میں بجٹ پر جاری بحث کے دوران کے مسلم لیگ نواز کے رکن اسمبلی خواجہ محمد آصف نے بدھ کے روز فوجی جرنیلوں پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا تھا انہوں نے اپنے مفادات کے لیے بلوچستان اور وزیرستان میں جو آپریشن شروع کیا ہے وہ ملک کو توڑنے کا باعث بن سکتا ہے۔
امریکی اور پاکستانی فوجی ہیڈ کوارٹر |
خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ پوری دنیا پر راج کرنے والے امریکہ کا فوجی ہیڈ کوارٹر چند سو کنال پر مشتمل ہے جبکہ پاکستانی فوج کا ہیڈ کوارٹر ہزاروں ایکڑ کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔ ان کے مطابق فوجی اپنی آسائش کے لیے جھلیں، ٹینس کورٹ، اور گولف کورس بنوا رہے ہیں جبکہ ملک کے غریب عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں۔
حزب مخالف کے بیشتر اراکین نے بلوچستان اور وزیرستان میں فوجی کارروائی کو ملک توڑنے کے مترادف قرار دیا اور صدر مشرف پر سخت تنقید کی اور کہا کہ فوجی وردی اور جمہوریت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔
جبکہ حکومتی اراکین نے بجٹ کو عوام دوست قرار دیتے ہوئے حزب مخالف کی تنقید مسترد کردی اور کہا کہ صدر جنرل پرویز مشرف کے فوجی وردی میں رہنے سے ملک اور جمہوریت کو فائدہ پہنچا ہے۔
اس بار یہ پہلا موقع ہے کہ فوجی جرنیلوں کو پنجاب سے تعلق رکھنے والے کئی اراکین اسمبلی نے بدعنوان قرار دیتے ہوئے فوج کو کڑی نکتہ چینی کا نشانہ بنایا اور بلوچستان میں جاری فوجی کارروائی کو ملک توڑنے کی کوشش کے مترادف قرار دیا۔