http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 15 June, 2006, 12:29 GMT 17:29 PST

سعادت علی مجاہد
گلگت

پاک چین بس سروس کا آغاز

پاکستان اور چین کے درمیان جمعرات سے پہلی مسافر بس سروس کا آغاز ہوگیا ہے۔

یہ بس سروس پاکستانی قصبےگلگت سے مغربی چین کے کاشغر کے لیئے شروع کی گئی ہے۔ بس سروس روزانہ کی بنیاد پر شروع کی گئی ہے اور اس کا یکطرفہ کرایہ چوالیس ڈالر کے لگ بھگ ہے۔

پاکستان کے وفاقی وزیرِ مواصلات شمیم صدیق نے اس بس سروس کا افتتاح کیا جس کے بعدگلگت سے دو بسیں مقامی وقت کے مطابق صبح دس بج کر پینتیس منٹ پر روانہ ہوئیں اور یہ قریباً چودہ گھنٹے میں سات سو بارہ کلومیٹر کا سفر طے کر کے اپنی منزلِ مقصود پر پہنچیں گی۔

گلگت سے بسوں کی روانگی کے وقت ہی کاشغر سے بھی ایک بس پاکستان کے لیئے روانہ ہوئی ہے جو جمعرات کی شام تک گلگت پہنچے گی۔

کاشغر جانے والی ایک بس میں پاکستان اور شمالی علاقہ جات کے اعلٰی سرکاری حکام اور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں پر مشتمل انتیس رکنی وفد سوار ہے جبکہ دوسری بس میں دو چینی اور سولہ پاکستانی شہری سوار ہیں۔

دوسری بس کے مسافروں میں سے سات بارڈر پاس پر جبکہ گیارہ پاسپورٹ پر سفر کر رہے ہیں۔ بارڈر پاس مقامی افراد کو جاری کیا جانے والا پروانۂ راہداری ہے جس کی مدد سے وہ بناء ویزے کے پاکستان اور چین کے درمیان براستہ درۂ خنجراب سفر کر سکتے ہیں۔

دورانِ سفر یہ بسیں پاکستان اور چین کے سرحدی قصبات سوست اور تاشکرغن میں ایک ایک گھنٹے کے لیئے کسٹم کلیئرنس کی خاطر رکیں گی۔

پاک چین بس سروس کے آغاز پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے وزیرِ مواصلات نے اسے ایک تاریخی موقع قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ’سرحدی قصبوں سوست اور تاشکرغن کے درمیان تو ٹرانسپورٹ کا رابطہ پہلے سے موجود ہے لیکن گزشتہ پچاس برس میں پاکستان اور چین کے دو شہروں کے درمیان پہلی بار بس سروس کا آغاز ایک تاریخی واقعہ ہے‘۔

وفاقی وزیر کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بس سروس سے یہ صرف علاقے میں سیاحتی سرگرمیاں بڑھیں گی بلکہ یہ بس سروس شمالی علاقہ جات کی اقتصادی، سماجی اور معاشی ترقی میں بھی کلیدی کردار ادا کرے گی۔