Friday, 09 June, 2006, 01:43 GMT 06:43 PST
علی سلمان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام لاہور
پاکستان میں پنجاب کی صوبائی اسمبلی میں ایک وزیر نے اپوزیشن کے رکن کو دہشت گرد قرار دیا تو اپوزیشن نے جواب دیا کہ اگر وزیر قانون نہ ہوتے تو حکومتی اراکین ایوان کو چلانے کے قابل ہی نہیں تھے۔
جمعرات کو پنجاب اسمبلی میں طرح طرح کی باتیں ہوئیں، کچھ سنگین تو کچھ مزاحیہ۔
ہوا کچھ یوں کہ متحدہ مجلس عمل کے ایک رکن نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ اسمبلی کو قائم ہوئے ساڑھےتین سال ہوئے ہیں لیکن تین پارلیمانی پارٹیوں کا انتخاب عمل میں نہیں آیا۔ وزیر قانون نے ابھی جواب دینا تھا کہ خود اپوزیشن بنچ سے ہی پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے ایک رکن اسمبلی نے کھڑے ہوکر کہا کہ خدا کا شکر ہے کہ تین پارلیمانی سیکرٹری نہیں بنے۔
انہوں نے کہا کہ وزیروں اور مشیروں کی ایک فوج موجود ہے لیکن ایک اگر وزیر قانون راجہ بشارت نہ ہوتے تو حکومت یہ ایوان چلانے کے قابل نہیں رہتی۔
ان کی اس بات کا چند وزیروں نے برا منایا اور سر جھٹکتے اور ایک دوسرے کی طرف دیکھتے دکھائی دیئے۔
ایک دوسرے وزیر ملک اقبال ان کا جواب دینے کے لیے کھڑے ہوئے ہی تھے کہ اپوزیشن کے راجہ ریاض نے ان کے بولنے سے پہلے کہا کہ وہ ادھر ادھر کی بات کرنے کی بجائے یہ بتائیں کہ اس سال کسان کو گندم کا صحیح معاوضہ کیوں نہیں ملا۔
انہوں نے کہا کہ کسی کسان کو ساڑھے تین سو روپے من سے زائد ملا ہو تو وہ مستعفی ہوجائیں گے۔
جواباً وزیر نے کہا کہ اگر کسی کو چار سو پندرہ روپے من سے کم ملا تو وہ مستعفی ہوجائیں گے۔
مبصرین کا کہناہے کہ ان دونوں میں سے کم از کم ایک کا بیان ضرور غلط ہے لیکن تا دم تحریر اس بارے میں کوئی استعفی عملی طور پر پیش نہیں کیا گیا۔
صوبائی وزیر نے اپوزیشن کے رکن کو کہا کہ’ وہ دہشت گرد ہیں اور پوری اسمبلی کو دہشت زدہ کیے رکھتے ہیں۔‘
انہوں نے رکن اسمبلی کے کم بالوں پر فقرہ چست کیا اور کہا کہ’ وہ اگر دیگر اراکین کو (فقرے بازی کے ذریعے) دہشت زدہ کرنے کی بجائے اپنے سر پر بال لگوانے پر توجہ دیں تو زیادہ بہتر ہوگا۔‘
اپوزیشن کے رکن اسمبلی راجہ ریاض نے کہا کہ ’انہوں نے پہلے ہی سر پر بال لگوانے شروع کرا دیئے ہیں اور جیسا کہ صوبائی وزیر کو ان کے سر پر لگے نئے بال نظر نہیں آرہے اسی طرح انہیں کسان کو گندم کی کم قمیت بھی دکھائی نہیں دیتی۔‘
پیپلز پارٹی کے ایک رکن نے کھڑے ہوکر کہا کہ ’پہلے ہی کہا جاتا تھا کہ ایم ایم اے کا مطلب مُلا ملٹری الائنس ہے اور آج فلور آف دی ہاؤس پر حکومتی اراکین نے خود اعتراف کر لیا ہے کہ واقعی ایسا ہی ہے۔‘
خلاف توقع ان ریمارکس پر مجلس عمل کے اراکین نے کوئی ردعمل نہیں دیا بلکہ مسکراتے رہے البتہ ان کی خاموشی کایہ مطلب نکالنا غلط ہوگا کہ وہ اس بات سے متفق تھے۔
جہاں تک وزیر قانون راجہ بشارت کے بارے میں دیے گئے ریمارکس کا تعلق ہے تو وہ درست نہیں تو کچھ زیادہ غلط بھی نہیں۔
پہلے وہ شہباز شریف کے دور میں ان کے وزیر قانون تھے اور آج پرویزالہی کی کابینہ میں وزیر قانون ہیں۔
حکومت کے خلاف ہونے والے تند و تیز تقریروں اور نکتہ اعتراضات کے بیشتر جواب وہ ان الفاظ سے شروع کرتے ہیں کہ ’میں اپنے بھائی معزز رکن اسمبلی کی بے حد عزت کرتا ہوں ان کے بے حد احترام ہے‘ لیکن اس کے بعد ان کے جو بیشتر جواب ہوتے ہیں ان کا لب لباب یہ ہوتا ہے کہ اس معزز رکن اسمبلی کو کچھ علم نہیں ہے۔ یا یہ کہ رکن اسمبلی غلط کہہ رہے ہیں۔
جمعرات کو بھی اپوزیشن کے رانا آفتاب احمد خان دو افراد کی ہلاکت کو جعلی پولیس مقابلہ قرار دیتے رہے۔
وہ مقامی اخبار میں شائع ہونے والے ان تصاویر کے تراشے بھی لہراتے رہے جن میں ہلاک ہونے والوں کو مقابلے سے پہلے مبینہ طور پر پولیس کے سامنے ہاتھ جوڑتے دکھایا گیا۔
رانا آفتاب احمد خان کا کہنا تھا کہ اگر وہ مجرم تھے تو انہیں عدالت میں پیش کیا جانا چاہیے تھا پولیس کو جعلی مقابلے کا کوئی اختیار نہیں تھا۔
وزیر قانون کا مرکزی استدلال تھا کہ ہلاک ہونے والے بہت بڑے مجرم تھے لہذا رانا قانون ان کی ہلاکت پر پولیس پر الزامات لگا کر پولیس کو ڈی مورالائز کر رہے ہیں۔
اجلاس میں جرمنی میں پراسرار حالات میں ہلاک ہونے والے عامر چیمہ اور فیصل آباد میں آلودہ پانی سے ہلاک ہونے والے متعدد افراد کی فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔