Thursday, 08 June, 2006, 06:34 GMT 11:34 PST
اعجاز مہر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
’انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کریسنٹ‘ اور ’پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی‘ نے پاکستان میں گزشتہ برس کے زلزلے میں اپنے اہل خانہ سے بچھڑ جانے والے افراد کی تلاش کے لیے ایک پروگرام شروع کیا ہے۔
یہ پروگرام باضابطہ طور پر سات جون سے شروع کرنے کا اعلان پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں کیا گیا۔
پروگرام مینجر نینسی سورنیئر نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے ادارے سے چار سو خاندانوں نے اپنے عزیز و اقارب کی تلاش کے لیے رابطہ کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اب تک ایک سو اناسی گم شدہ افراد کے بارے میں معلومات جمع کی گئی ہیں جن میں سے اناسی زندہ تلاش کیے گئے ہیں جبکہ ایک سو کے بارے میں معلومات ملی ہیں کہ وہ زلزلے میں ہلاک ہوچکے ہیں۔ نینسی سورنیئر کا کہنا ہے کہ ایک سو چودہ مردوں، بائیس خواتین اور پچاسی بچوں سمیت دو سو اکیس افراد کی تلاش کا کام جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ زلزلے کے بعد ان گمشدہ افراد کی تلاش کے لیے ان کا ادارہ ایک کتاب اور پوسٹر وغیرہ شائع کر رہا ہے جس میں ان افرا کے کوائف اور جس حد تک ممکن ہوا ان کی تصاویر بھی شائع کی جائیں گی۔
ان کے مطابق یہ کتابچے اور پوسٹر ملک کے مختلف علاقوں میں واقع تعلیمی اداروں، ہسپتالوں اور عوامی آمد و رفت کی دیگر جگہوں پر آویزاں کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس مہم کو کامیاب بنانے میں میڈیا اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ نینسی سورنیئر نے بتایا کہ دس روز قبل سولہ سالہ سونیا نامی بچی کو بالاکوٹ میں اپنے عزیز و اقارب کے حوالے کیا گیا۔
ان کے مطابق سونیا زلزلے کے وقت پانی بھرنے گئیں تھیں اور وہ جیسے ہی واپس آئیں تو ان کا گھر زمین بوس ہوگیا اور اہل خانہ دفن ہوگئے جس کے بعد سونیا ایک متاثرہ خاندان کے ہمراہ کراچی چلی گئیں اور حال ہی میں وہ انہیں کراچی کے ایک سکول سے ملیں۔