Wednesday, 07 June, 2006, 03:02 GMT 08:02 PST
رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
زلزلہ زدہ علاقوں کے لیے صوبائی بحالی وتعمیر نو اتھارٹی (پیرا)، اقوام متحدہ اور صوبہ سرحد کی حکومت نے ملک کے زلزلہ زدہ علاقوں میں تعمیر نو کی فوری بحالی کے لیے ایک سالہ منصوبہ پیش کیا ہے۔
منصوبے کا مقصد ہزاروں متاثرہ لوگوں کو ان کے آبائی علاقوں میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔
دو سو چھیانوے ملین امریکی ڈالر کی مالیت کے اس منصوبے کا باقاعدہ اعلان منگل کے روز پشاور میں ایک اعلی سطحی اجلاس میں کیا گیا جس میں زلزلہ زدہ علاقوں کے لیے صوبائی تعمیر نو اتھارٹی، اقوام متحدہ اور صوبائی حکومت کے نمائندوں نے شرکت کی۔
اس موقع پر اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے ریزیڈ ینٹ کوراڈنیٹر جان وینڈر مورٹیل نے کہا کہ یہ منصوبہ متاثرہ علاقوں میں مقامی حکومتوں کی ترتیب اور استعداد کاری پر زور دیتا ہے۔
منصوبے کے بارے میں پیرا کے ڈائریکٹر جنرل جمشید الحسن نے بی بی سی کو بتایا کہ اس منصوبے میں مختلف پراجیکٹس ہیں جس میں لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں نگے، جن لوگوں کے نقصانات ہوئے ہیں ان کو بحال کرنا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ توقع ہے اس منصوبے پر عمل درامد سے متاثرہ علاقوں کے لوگ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکیں گے اور ان کو کچھ روزگار کے مواقع ملیں گے۔
جمشید الحسن کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کے لیے دس عشاریہ سات ملین ڈالر کی امداد پہلے ہی اقوام متحدہ عالمی امدادی ادروں کے لے چکی ہے جبکہ باقی ماندہ رقم منصوبے کے دوران لی جائیگی۔
اقوام متحدہ نے اس سال متاثرہ علاقوں میں 150 بنیادی صحت کے مراکز اور 32 سے زائد سکول قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ منصوبے کے مطابق متاثرین زلزلہ کو زرعی آلات ، مویشی اور بیج فراہم کی جائیں گی جبکہ ان سرگرمیوں میں خواتین کی جانب خصوصی توجہ دی جائیگی۔
اس موقع پر سرحد کے سنئیر وزیر سراج الحق کا کہنا تھا کہ منصوبے کے لیے تمام تر پیپر ورک مکمل ہوچکا ہے اب اس پر عملی کام شروع ہونا چاہیے۔
منصوبے کے مطابق بحالی کی سرگرمیوں پر عمل درامد صوبائی اور مقامی اتھارٹیز کے ذریعے کیا جائے گا جبکہ منصوبہ بندی اور عمل درامد کے مراحل میں کمیونٹی کی بامقصد شراکت کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔