Monday, 05 June, 2006, 17:20 GMT 22:20 PST
اعجاز مہر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
یکم جولائی سے شروع ہونے والے نئے مالی سال برائے ’دو ہزار چھ۔سات‘ کے لیئے تیرہ کھرب چودہ ارب ستتر کروڑ اسی لاکھ روپے کا مجوزہ بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا ہے۔
آئندہ مالی سال کے بجٹ کا کل حجم رواں مالی سال سے19.7 فیصد زیادہ ہے اور جس بنا پر وزیرِ خزانہ عمر ایوب نے بجٹ پیش کرتے ہوئے اسے پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا بجٹ قرار دیا ہے۔رواں سال کی نسبت سنہ دو ہزار چھ۔سات کے سالانہ بجٹ میں دفاع کے لیئے مختص رقم میں گیارہ فیصد کا اضافہ کردیا گیا ہے اور جبکہ سرکاری ملازمین کو یکم جولائی سے پندرہ فیصد مہنگائی الاؤنس دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔
بجٹ میں ریٹائر ملازمین کی پنشن میں بھی اضافہ کا اعلان کیا گیا ہے۔ عمر ایوب کے اعلان کے مطابق انیس سو ستتر سے پہلے ریٹائر ہونے والے ملازمین کی پینشن میں بیس فیصد جبکہ اس تاریخ کے بعد ریٹائر ہونے والے ملازمین کی پینش میں پندرہ فیصد اضافہ کیا جائے گا۔
اس سے قبل وزیراعظم شوکت عزیز کی صدارت میں ہونے والے کابینہ کے خصوصی اجلاس میں خسارے والے اس بجٹ کی منظوری دے دی گئی ہے۔
حکومت کا دعویٰ ہے کہ بجٹ عوام دوست ہے جبکہ حزب مخالف کی جماعتیں کہہ رہی ہیں کہ حکومت نے پیٹرول اور چینی کی قیمتیں بڑھا کر پہلے ہی منی بجٹ پیش کردیا ہے اور حقیقی معنوں میں عوام کو کوئی مراعات نہیں دی جا رہی ہیں۔
بجٹ تقریر کرتے وقت عمر ایوب نے کالا باغ ڈیم کا نام لیے بنا کہا کہ تین بڑے آبی ذخائر کے لیے زمین کے حصول کی خاطر بھی ڈیڑھ کھرب روبے مختص کیے گئے ہیں۔
رواں سال میں مختص کردہ دو سو بہتّر ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ سے حسب معمول اس برس بھی اخراجات کم کیئے گئے ہیں ۔
نئے مالی سال کے مجوزہ بجٹ میں ٹیکسوں کی وصولی کا حدف آٹھ کھرب اکتالیس ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔ جوکہ رواں سال کے بجٹ کے حدف سے چھتیس ارب روپے زیادہ ہے۔ واضح رہے کہ ہر سال پاکستان میں ٹیکس دہندگاں کی تعداد بڑھ رہی ہے اور حکومت کو ٹیکس کی وصولی کا ہدف بھی پورا ہوجاتا ہے۔
حکومتی اعداد وشمار کے مطابق ٹیکس اور ’نان ٹیکس ماحاصل‘ سے جملہ وصولیات دس کھرب بیاسی ارب اکاسی کروڑ روپے ہوں گی۔ جس میں سے صوبائی حصہ منہا کرکے قطعی وصولیات سات کھرب چار ارب پچپن کروڑ روپے ہوں گے۔
حکومت کے فراہم کردہ ’بجٹ کتابچوں‘ میں بتایا گیا ہے کہ اخراجات سے آمدن کم ہے اس لیے نجکاری سے پچہتر ارب روپے حاصل ہوں گے جبکہ ایک کھرب چالیس ارب نو کروڑ تیس لاکھ روپے بینکوں سے قرضہ جات حاصل کرکے خسارہ پورا کیا جائے گا۔
حکومت نے تعلیم کے لیے رواں سال سے دو ارب روپے زیادہ بجٹ رکھا ہے جبکہ صحت کے لیے چھتیس کروڑ روپے اضافہ کیا گیا ہے۔
پیر کی شام بجٹ پیش کیئے جانے سے پہلے پارلیمان کے اردگرد حفاظتی انتظامات سخت کردیئے گئے تھے۔