Monday, 05 June, 2006, 07:51 GMT 12:51 PST
اعجاز مہر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان حکومت نے یکم جولائی سے شروع ہونے والے نئے مالی سال کے مجوزہ بجٹ کو حتمی شکل دے دی ہے اور کابینہ کی رسمی منظوری کے بعد اُسے آج شام قومی اسمبلی میں پیش کیا جا رہا ہے۔
تیرہ سو ارب روپے سے زیادہ سالانہ اخراجات والا نیا بجٹ وزیر مملکت برائے خزانہ عمر ایوب خان شام کو پانچ بجے بلائے گئے قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیش کریں گے۔
حکومت کا دعویٰ ہے کہ بجٹ عوام دوست ہے جبکہ حزب مخالف کی جماعتیں کہہ رہی ہیں کہ حکومت نے پیٹرول اور چینی کی قیمتیں بڑھا کر پہلے ہی منی بجٹ پیش کردیا ہے اور حقیقی معنوں میں عوام کو کوئی مراعات نہیں دی جا رہی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے پیش نظر سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کا اعلان بھی متوقع ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق تنخواہوں میں دس فیصد کے قریب اضافہ ہوسکتا ہے۔
نئے مجوزہ بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے سوا چار سو ارب روپے سے زیادہ کی رقم مختص کی گئی ہے اور اس میں زلزلہ زدہ علاقوں میں جاری تعمیراتی مرحلے کے لیے بھی خاصی رقم رکھی گئی ہے۔
دفاعی بجٹ میں بھی رواں سال کی نسبت خاصی رقم مختص کی گئی ہے اور ایک حکومتی اندازے کے مطابق اس کا حجم ڈھائی سو ارب کے قریب ہوسکتا ہے۔
رواں سال میں مختص کردہ دو سو بہتّر ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ سے حسب معمول اس برس بھی اخراجات کم کیے گئے ہیں ۔ جبکہ دفاع کے لیے رکھے گئے دو سو تئیس ارب روپے کے بجٹ میں اخراجات مقررہ حد سے پندرہ ارب روپے زیادہ کیے گئے ہیں۔
یعنی ترقیاتی اخراجات میں کمی اور دفاعی اخراجات میں منظور کردہ حد سے زیادہ کیے گئے ہیں۔
پیر کی شام بجٹ پیش کیئے جانے سے پہلے پارلیمان کے اردگرد حفاظتی انتظامات سخت کردیے گئے ہیں۔