http://bbc.com.im/urdu/

Sunday, 04 June, 2006, 03:29 GMT 08:29 PST

رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام پشاور

قبائلی روایت کے تحت گھر مسمار

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں کوکی خیل قبیلے کے ہزار آفراد پر مشتمل لشکر نے مقامی روایات (میراتہ) کے تحت ا زخود نوٹس لیتے ہوئے دو فریقین کے مابین جاری لڑائی میں ایک فریق کے گھروں کو مسمار کردیا ہے اور ان کو علاقہ سے نکال دیا ہے جبکہ میراتہ کے مرتکب فریق کی جائیداد کو بھی ضبط کیا گیا ہے۔

مقامی پو لیٹکل انتظامیہ نے گھروں کی مسماری کی تصدیق کردی ہے۔
ایک مقامی قبائلی رہنما اکرام اللہ جان کوکی خیل نے جو جرگے میں موجود تھے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ تقریباً 20 سالوں سے آدم خان تور خیل اور میر بادشاہ کے ما بین غنڈی گاؤں جمرود میں جائیداد کا تنازعہ چلا آرہا تھا۔ اس دوران آدم خان نے مخالف فریق کے تین آدمیوں کو قتل کیا اور صرف میر بادشاہ کا ایک بیٹا زرین اس لڑائی میں زندہ رہ گیا تھا۔

اکرام اللہ کے مطابق چند روز قبل آدم خان گروپ نے میر بادشاہ کے خاندان کے اس آخری چشم و چراغ سالہ زرین کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیا اور اس طرح اس خاندان کے تمام مرد اس دشمنی کی نذر ہوگئے۔

قبائلی رہنما کےمطابق جب ایک ہی خاندان کے تمام مرد مخالف فریق کے تشدد کا نشانہ بنتے ہے تو اسے ’میراتہ‘ کہتے ہے اور اسے قبائلی روایات میں انتہائی ظلم سے تعبیر کیاجاتا ہے۔ اکرام اللہ کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں قبائلی لشکر ازخود اس طرح کے واقعات کا نوٹس لیتا ہے اور جو فرق ظلم میں ملوث ہوتا ہے ان کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس لشکر کشی میں پانچ ہزار آفراد نے ملک عطا اللہ کی قیادت میں شرکت کی اور آدم خان تور خیل کے دو گھروں کو مسمار کیا جبکہ جرگے کے حکم پر ان کی جائیداد بھی ضبط کردی گئی۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ آدم خان گزشہ روز اپنے اہل و عیال سمت پہلے ہی علاقہ چھوڑ کر کسی نامعلوم مقام کی طرف فرار ہوگئے تھے۔

اس سلسلے میں جب پولیٹیکل تحصیلدار روشن خان سے رابطہ کیاگیا تو انہوں نے بی بی سی کو واقع کی تصدیق کرتے ہوئے صرف اتنا بتایا کہ گھروں کو مسمار کیا گیا ہے لیکن انہیں اور کسی چیز کا علم نہیں تھا۔