Sunday, 04 June, 2006, 12:34 GMT 17:34 PST
پاکستان کے ایک سینیئر فوجی افسر کا کہنا ہے افغانستان میں طالبان کا مسئلہ مقامی فوجی حکمتِ عملی کا معاملہ ہے اور اب طالبان افغانستان کے لیئے کوئی بڑا خطرہ نہیں ہیں۔
پاکستان کی جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے سربراہ جنرل احسان الحق نے سنگاپور میں ایشیا کی سکیورٹی سے متعلق ایک اجلاس میں کہا کہ طالبان اب افغان حکومت کو متزلزل نہیں کر سکتے اور نہ ہی اس کی ترقی میں رکاوٹ ڈال سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ حالیہ دنوں میں افغانستان میں تشدد کی کارروائیوں میں تیزی آئی ہے لیکن اس کی وجہ سست رو ملکی تعمیرِ نو کے خلاف عوامی جذبات اور غیر ملکی فوجیوں کے خلاف افغان عوام کے دلوں میں موجود نفرت ہے۔ جنرل احسان نے یہ بھی کہا کہ حالیہ تشدد افغانستان کے جنوب میں واقع طالبان اکثریت کے علاقے میں نیٹو افواج کی تعیناتی کا قدرتی ردعمل بھی ہے۔
جنرل احسان کی دلیل |
یاد رہے کہ پاکستانی فوج ماضی میں طالبان کی حمایت کرتی رہی ہے اور مغربی حکام کا ماننا ہے کہ جہاں پاکستانی حکومت طالبان کو شکست دینے کے تئیں سنجیدہ ہے وہیں فوج اور خفیہ اداروں کے کچھ افسران کی ہمدردیاں اب بھی طالبان کے ساتھ ہیں۔