Saturday, 03 June, 2006, 18:02 GMT 23:02 PST
علی سلمان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام لاہور
پاکستان میں پانی اور بجلی کی پیداوار کے ادارے واپڈا کے چیئرمین طارق حمید کے مطابق حکومت نے واپڈا کو کالا باغ اور دیامیر بھاشا ڈیم کے لیے بجٹ میں دس ارب روپے دینے کا اشارہ دیا ہے۔
وہ سنیچر کو لاہور میں وفاق ایوان ہائے تجارت میں ایک تقریب کے بعد اخبار نویسوں سے گفتگو کر رہے تھے۔
اس سے قبل تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ایک تازہ ترین رپورٹ کا حوالہ دیا اور کہا کہ اس ایک سال کےدوران چوبیس ملین ایکڑ فٹ پانی سمندر میں گیا ہے جبکہ ماہرین کی رپورٹ کے مطابق صرف آٹھ ملین ایکٹر فٹ پانی جانا چاہیے تھا۔
انہوں نے کہا کہ دو میگا ڈیم بنا کر بارہ ملین ایکٹر فٹ پانی بچایا جاسکتا تھا۔
ان کا اشارہ کالاباغ اور بھاشا ڈیم کی جانب تھا جس کی تعمیر پر سرحد اور سندھ میں شدید مخالفت پائی جاتی ہے۔
چیئرمین واپڈا نے کہا کہ ایٹمی پلانٹ سے آٹھ ہزار میگا واٹ بجلی بنانے کی بات تو کی جاتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ چین سے صرف تین تین سو میگا واٹ بجلی کے پلانٹ پاکستان کو ملتے ہیں اور ان میں سے بھی دوسرا سن دو ہزار دس میں جاکر کام شروع کرے گا۔
تاہم انہو ں نے کہا کہ ’چین نے خود پر اپنے ملک میں چھ سو میگا واٹ کا بجلی گھر اب بنانا شروع کیا ہے شاید آئندہ دو چار سال میں پاکستان کو بھی چھ سو میگا واٹ کا بجلی گھر مل جائے‘۔
انہوں نے کہا کہ ’ہوا سے بجلی بنانے کے لیے کیٹی بندر میں آئندہ ایک دو ہفتے میں ایک سو میگا واٹ بجلی بنانے کے منصوبے پر کام شروع ہوجائے گا ۔تاہم چیئرمین واپڈا کے مطابق فی الحال یہ بجلی تھرمل سے بھی زیادہ مہنگی پڑ رہی ہے۔
![]() | |
| واپڈا کے چیئرمین طارق حمید نے لاہور میں وفاق ایوان ہائے تجارت کے ارکان کے ساتھ |
چئیرمین واپڈا نے بتایاکہ انہوں نے سالانہ آٹھ فی صد کے لحاظ سے منصوبہ بندی کی تھی لیکن ان کی توقع کے خلاف اس سال بجلی کی طلب بارہ فی صد بڑھ گئی جس کی وجہ سے مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلے لاہور کی ایک گلی میں جہاں دس ایئر کنڈیشنر چلتے تھے وہاں اب سو چلتے ہیں جس کی وجہ سے آئے روز ٹرانسفارمر جل جاتے ہیں اور فیڈرگرم ہوکر بند ہوجاتے ہیں۔
چیئر مین واپڈاطارق حمید نے کہا کہ ان مسائل کے حل کے لیے چھوٹے موٹے ڈیم نہیں بلکہ بجلی کی پیداور میں ایک جمپ کی ضرورت ہے۔
چیئرمین واپڈا نے کہا کہ کراچی میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کی ذمہ داری اب وپڈا پر نہیں ڈالی جا رہی اور معاملہ صاف ہوگیا ہے کہ یہ کراچی کو بجلی سپلائی کرنے والی کمپنی کا اپنا مسئلہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ واپڈا کے چالیس ہزار میٹر ریڈر ہیں اور ان کے خلاف عوام کی شکایات بھی ہیں۔ انہوں نے کہا واپڈا کو ہر ماہ بجلی کے ایک کروڑ اٹھاون لاکھ میٹروں کی ریڈنگ کرنا ہوتی ہے تاہم اب ان میٹروں کی کمپیوٹر کے ذریعے ریڈنگ کی جائے گی اس کے لیے تمام میٹروں کو تبدیل کرنا ہوگا اور ہر میٹر میں ایک چپ لگائی جائے گی اور خود بخود بل بن جایا کرے گا۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ بھارت کے مقابلے میں پاکستان میں زرعی شعبے سے بجلی کی قیمت زیادہ وصول کی جاتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بھارت میں پاکستانی روپے کے لحاظ سے ایک روپے نوے پیسے کا یونٹ زراعت کو دیا جاتا ہے جبکہ پاکستان میں ساڑھے تین روپے کا یونٹ دیا جاتا ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ صنعتوں کو بھارت کے مقابلے میں پاکستان میں نسبتا سستی بجلی فراہم کی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی قیمتوں میں ڈھائی سال کے دوران کوئی اضافہ نہیں ہوا جبکہ اس دوران تیل کی قیمت میں اٹھانوے فی صد اور سوئی گیس کی قیمت میں اڑتالیس فی صد اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی کی قیمت بڑھانا ایک سیاسی فیصلہ ہے۔