http://bbc.com.im/urdu/

Wednesday, 31 May, 2006, 00:34 GMT 05:34 PST

ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام ،کراچی

کیمرامین کی ہلاکت پر احتجاج

سندھ کے مخلتف شہروں میں ایک ٹی وی چینل کے کیمرا مین کے قتل کے خلاف صحافیوں نے احتجاجی مظاہرے کیئے ہیں۔ جبکہ لاڑکانہ اور قمبر میں شہریوں نے رضاکارانہ طور پر اپنا کاروبار بند رکھا۔

سندھی اخبار روزنامہ کاوش اور نجی ٹی وی چینل کے ٹی این کا کیمرا مین منیر سانگی پیر کے روز پیشہ وارانہ فرائض کی ادائیگی کے دوران فائرنگ میں ہلاک ہوگئے تھے۔

منیر سانگی لاڑکانہ کے قریب بقاپور میں انڑ اور ابڑو قبیلے میں تصادم کی کوریج کے لیئےگئے تھے جہاں فائرنگ کے تبادلے میں گولی لگنے سے جاں بحق ہوگئے۔
لاڑکانہ اور میرو خان میں شہریوں نے منگل کے روز صحافیوں سے یکجہتی کے اظہار کے لیئے کاروبار بند رکھا اور احتجاجی جلوس نکالا۔
منیر سانگی گردن میں گولی لگنے سے ہلاک ہوئے

کراچی میں پریس کلب میں احتجاجی جلسہ ہوا بعد میں صحافیوں نے وزیر اعلیٰ ہاؤس تک مارچ کیا اور دہرنا دیا۔ وہ ملزمان کی گرفتاری اور صحافیوں کو تحفظ فراہم کرو کے نعرے لگا رہے تھے۔

اس موقعے پر سرکاری استقبالیہ اور عشائوں کے بائیکاٹ کا اعلان کیا گیا۔
پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ کے سیکریٹری جنرل مظہر عباس نے احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ منیر سانگی کو پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا کا پہلا شہید قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت سندھی صحافیوں کو سب سے زیادہ خطرات لاحق ہیں کیونکہ ان میں اکثریت سیاسی طور پر زیادہ باشعور ہے۔

انہوں نے کہا کہ لاڑکانہ پولیس اور انتظامیہ پر صحافیوں کو کوئی اعتماد نہیں ہے اس کی غیر جانبدرانہ تحقیقات کرائی جائے۔

دوسری جانب حیدرآباد، دادو خیرپور سمیت دیگر شہروں میں احتجاجی اور تعزیتی جلسے منعقد کئے گئے جس میں ملزمان کی گرفتاری اور معاوضے کا مطالبات کیئے گئے۔