Tuesday, 30 May, 2006, 23:52 GMT 04:52 PST
ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقوں میں انگریزی دور کے پولیٹکل ایجنٹ نظام کو مزید مضبوط اور طاقتور بنایا جائے گا۔
یہ بات قبائلی علاقوں کے لیئے وفاقی حکومت کے نمائندے یعنی گورنر سرحد لیفٹینٹ جنرل (ر) علی محمد جان اورکزئی نے صوبائی دارالحکومت پشاور میں سات قبائلی علاقوں کے پولیٹکل ایجنٹس کے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کی۔
یہ اعلان ماضی میں صدر جنرل پرویز مشرف بھی کرچکے ہیں اور نئے گورنر کا اعلان اسی کا تسلسل دکھائی دیتا ہے تاہم یہ ایک ایسے وقت کہا گیا ہے جب قبائلی علاقوں خصوصاً شمالی اور جنوبی وزیرستان میں جاری شورش کے خاتمے کے لیئے ماضی میں اختیار کی جانے والی پالیسی کے تحت یہ اہم عہدہ بے اختیار دکھائی دینے لگا تھا۔
گورنر کی جانب سے اس اعلان سے ظاہر ہوتا ہے کہ شاید حکومت کو اپنی غلطی کا احساس ہوا ہے۔ پولیٹکل ایجنٹ کے اختیارات تو پہلے ہی کافی متنازعہ ہیں۔ ابھی واضع نہیں کہ حکومت انہیں مزید کس طرح مضبوط کرنا چاہتی ہے۔
گورنر نے پولیٹکل ایجنٹس کو اجلاس میں بتایا کہ وہ ان کو اہمیت دیں گے اور ان کے ہاتھ مضبوط کریں گے۔
یقیناً پولیٹکل ایجنٹس کے درمیان بیٹھ کر وہ اس نظام کو مستحکم کرنے کی باتیں ہی کریں گے لیکن تجزیہ نگاروں کے مطابق گورنر کو اس نظام کے ناقدین سے بھی رائے لینی چاہیے۔
اجلاس میں نئے گورنر کو بریف کرتے ہوئے سیکریٹری فاٹا محمد ارباب شہزاد نے قبائلی علاقوں میں عمومی طور پر صورتحال کو تسلی بخش قرار دیا تاہم اس بات کا اعتراف کیا کہ شمالی اور جنوبی وزیرستان میں حکومت کی کمزور ’رٹ‘ کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں سیاسی عمل کو جرگوں کے ذریعے فعال بنانے اور ملکی نظام کو مضبوط کرنے سے بہتر نتائج حاصل کیئے جا سکتے ہیں۔