Monday, 29 May, 2006, 14:26 GMT 19:26 PST
عزیزاللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) نے مرکزی اور بلوچستان حکومت کی پالیسیوں کے خلاف پیر سے شروع ہونے والے بلوچستان اسمبلی کے مکمل سیشن کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔
بلوچستان میں حکمران پاکستان مسلم لیگ اور متحدہ مجلس عمل کی مخلوط حکومت قائم ہے۔
بلوچستان اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو مجلس عمل کے پارلیمانی لیڈر اور سینیئر صوبائی وزیر مولانا عبدالواسع نے وفاقی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کی اور کہا کہ ان کے اراکین پندرہ جون تک جاری رہنے والے اسمبلی کے مکمل سیشن میں شرکت نہیں کریں گے۔
مولانا عبدالواسع نے بی بی سی کو بتایا کہ صوبہ مالی بحران کا شکار ہے اور قومی مالیاتی کمیشن میں اس پسماندہ صوبے کو کچھ بھی نہیں دیا گیا اس کے علاوہ جمعیت علماء اسلام کے ناظمین کو اسناد کی بنیاد پر نااہل قرار دیا جا رہا
ہے اور ان کے ایک صوبائی وزیر کو بھی نااہل قرار دیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مجلس عمل لیویز فورس کو پولیس میں ضم کرنے کے خلاف ہے اور یہ بات کئی فورم پر حکومت کے سامنے رکھی لیکن ان کی کوئی سنوائی نہیں ہوئی۔
وفاقی حکومت اور ادارے یہ الزام عائد کرتے رہتے ہیں کہ بلوچستان کے لوگ جمہوری طریقے سے مطالبات سامنے نہیں رکھتے لیکن ہم نے اسمبلی سے لےکر کابینہ کے اجلاس اور مرکز میں تمام جمہوری طریقے اپنائے لیکن ان کے مطالبات پر کسی نے توجہ نہیں دی ہے۔
مجلس عمل کے پارلیمانی لیڈر |
کوئٹہ میں پیر کو وکلاء تنظیموں کا اجلاس منعقد ہوا جس میں کہا گیا کہ بلوچستان میں مبینہ فوجی کارروائی بند کرکے مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کیے جائیں۔
اس کے علاوہ کوئٹہ میں جمہوری وطن پارٹی کی خواتین نے احتجاجی مظاہرہ
کیا۔ یہ خواتین ڈیرہ بگٹی میں جاری مبینہ فوجی کارروائی کے بعد نقل مکانی کرکے مختلف علاقوں میں زندگی کے دن گزار رہی ہیں۔
ان خواتین نے حکومت کی پالیسیوں کے خلاف سخت نعرہ بازی کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ نواب اکبر بگٹی کو دوبارہ ڈیرہ بگٹی لایا جائے۔