Tuesday, 23 May, 2006, 14:05 GMT 19:05 PST
ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کراچی
پاکستان میں حکام نے امکان ظاہر کیا ہے کہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں تعمیر نو اور بحالی میں مقررہ تین سال کے بجائے پانچ سال کا عرصہ لگ سکتا ہے۔ جبکہ آئندہ وقت میں پانچ ارب روپے کی کمی کا سامنا بھی ہوگا۔
ارتھ کوئیک ری ہیبلیٹیشن اینڈ ری کنسٹرکشن اتھارٹی کے وائس چیرمین لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد نے کراچی میں منگل کے روز ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ حکومت کےایک سروے کے مطابق زلزلے میں چھ لاکھ گھر تباہ ہوئے ہیں۔ اس سے قبل ہونے والے سروے میں چار لاکھ گھروں کی نشاندہی ہوئی تھی۔
انہوں نے تعمیرات نو میں درپیش مشکلات کے بارے میں بتایا کہ آنے والے دنوں میں مون سون کی بارشیں ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اگر بارشیں زیادہ ہوئیں تو ہمارے لیئے مصیبت بن جائے گی کیونکہ اس علاقے میں تھوڑی سیی بارش سے بھی تودے گرنے لگتے ہیں اور سڑک بند ہوجاتی ہے، جتنا تعمیراتی مٹیریل آگے پہنچانے میں دیر ہوگی وقت اور لاگت میں اضافہ ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ تعمیر نو میں پانچ ارب روپے کی کمی کا سامنا ہوگا ، اس کے لیئے ہم ماہ جولائی میں کراچی میں ایک اسپانسرز کانفرنس منعقد کرنا چاہ رہے ہیں۔ تاکہ جو مقامی اسپانسرز ہیں ان سے مدد لی جائے۔
ارتھ کوئیک ری ہیبلیٹیشن اینڈ ری کنسٹرکشن اتھارٹی کے وائس چیئرمین کا کہنا تھا کہ تعمیر نو میں تربیت یافتہ عملے کی شدید کمی کا سامنا ہے۔
جہاں چھ لاکھ گھر ، چھ ہزار سکول اور ساڑھے تین سو ہسپتال بننے ہوں وہاں تربیت یافتہ مزدوروں کی شدید ضرورت ہوگی یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہے جس سے نمٹنے کے لیئے ہم نے ہاؤسنگ ری کنسٹرکشن سینٹرز بنائے ہیں جہاں مزدوروں کو تربیت دی جارہی ہے، مگر اس میں وقت درکار ہے۔
![]() | |
| زلزلہ زدہ علاقوں میں تعمیرنو ایک چیلنج ہے |
ایک سوال کے جواب میں جنرل ندیم احمد نے بتایا کہ حکومت مساجد اور مدارس کے لیئے فنڈ فراہم نہیں کر رہی ہے۔
اس طرح مدارس حکومت کی ذمہ داری نہیں تھے اس لیئے ہم اس پر توجہ نہیں دے رہے ہیں، جہاں یہ موجود تھے وہاں وہ ہی لوگ پھر سے بنا رہے ہیں۔
ارتھ کوئیک ری ہیبلیٹیشن اینڈ ری کنسٹرکشن اتھارٹی کے نائب چیئرمین نے تعمیر نو میں غیر سکاری تنظیموں کے کردار کے بارے میں بتایا کہ تعمیر نو میں ان کا کام محدود ہے۔
انہوں نے اقوام متحدہ کی جانب سے حالیہ دنوں میں دیئے گئے اس بیان کوکہ ایک لاکھ لوگ آنے والی سردیوں میں بھی خیموں میں رہیں گے رد کرتے ہوئے بتایا کہ سعودی عرب اور ترکی تیارشدہ ’ھٹس‘ فراہم کر رہے ہیں جن میں دس سے پندرہ فیصد لوگ منتقل کردیئے جائیں گے۔ ہو سکتا ہے بیس پچیس ہزار لوگ پھر بھی خیموں میں ہی رہیں۔