Saturday, 20 May, 2006, 07:48 GMT 12:48 PST
دلاور خان وزیر
شمالی وزیرستان
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں نیم فوجی دستے فرنٹیئر کانسٹبلری (ایف سی) کے ایک چیک پوسٹ پر ایک مقامی جنگجو قبائلی نے گرینیڈ حملہ کیا جس کے نتیجے میں ایف سی کے دو اہلکار موقع پر ہی ہلاک ہو گئے جبکہ ایک شدید زخمی ہے۔
یہ حملہ سنیچر کی صبح دس بجے کے قریب شمالی وزیرستان کے تحصیل میر علی کے نزدیک ایک چیک پوسٹ پر کیا گیا۔ نیم فوجی دستے کی طرف سے جوابی فائرنگ کے نتیجے میں گرینیڈ پھینکنے والا شخص بھی موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔
میر علی شورش زدہ علاقے میران شاہ سے تقریباً پچیس کلومیٹر کی دوری پر مشرق میں واقع ہے۔
ابھی تک کسی نے بھی حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی لیکن ذرائع حملہ آور کا تعلق شمالی وزیرستان کے مقامی قبائل سے بتاتے ہیں۔
مذکورہ چیک پوسٹ میر علی سے چند کلو میٹر جنوب کی جانب ایک سرکاری سکول کے احاطے میں بنائی گئی ہے جو ہرمز دراوڑ قبائل کا میر علی بازار تک آنے جانے راستہ ہے۔
اسی چیک پوسٹ پر گزشتہ مہینے میں کئی حملے ہو چکے ہیں اور ایک حملے میں ایف سی کے دو اہلکار شدید زخمی بھی ہو گئے تھے۔
پاکستان نے شمالی اور جنوبی وزیرستان کے علاقوں میں تقریباً اسی ہزار کے قریب فوج تعینات کی ہوئی ہے۔
خبر رساں ادارے اے پی کے ایک تجزیے کے مطابق جنوری سے لے کر ابتک شدت پسندوں کے ساتھ لڑائی میں باون فوجی، چھ پولیس والے اور تقریباً تین سو پچیس کے قریب شدت پسند ہلاک ہو چکے ہیں۔