Friday, 19 May, 2006, 09:55 GMT 14:55 PST
اعجاز مہر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے کہا ہے کہ امریکہ سے وہ اپنے تعلقات کی قدر کرتے ہیں لیکن وہ اپنے ملک کے قومی مفادات کو کبھی نہیں چھوڑیں گے۔
جمعہ کے روز پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں پاکستان کی خارجہ پالیسی پر جاری بحث سمیٹتے ہوئے انہوں نے ایران کے جوہری پروگرام کے تنازعے پر امریکہ اور پاکستان کے موقف میں اختلافات کا ذکر کیے بنا اپنا موقف کھل کر بیان کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان سمجھتا ہے کہ ایران کو پرامن مقاصد کے لیے جوہری ٹیکنالوجی کے استعمال کا حق ہے اور ان کا ملک ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا مخالف ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران کے موجودہ جوہری بحران سے نکلنے کے لیے دنیا کے پاس بہترین راستہ یہ ہے کہ وہ عالمی جوہری ایجنسی کے ذریعے ’آن سائیٹ انسپیکشن رجیم‘ کا طریقۂ کار وضع کرے۔ ان کے مطابق اس طریقے سے عالمی جوہری ایجنسی یہ یقینی بناسکتی ہے کہ ایران مقررہ حد نہیں پھلانگ سکتا۔
سینیٹ میں جمعرات کے روز قوائد معطل کرکے بحث کی شروع کی گئی تھی جو جمعہ کو ختم ہوئی۔ وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے اپنی حکومت کی خارجہ پالیسی کو ’بولڈ اینڈ بینلنسڈ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی پالیسی اپنے قومی مفادات کے تحت ہے۔
ایوان کی خارجہ امور کے بارے میں قائمہ کمیٹی کے چیئرمین اور حکمران مسلم لیگ کے سیکریٹری جنرل سید مشاہد حسین نے کہا کہ افغانستان میں حالات کی خرابی کی ذمہ داری امریکہ کی ناقص پالیسیاں ہیں۔
ان کے مطابق اس بات کی تائید خود امریکی تجزیہ کار بھی کرچکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی افغان پالیسی میں کافی خلیج ہے جسے پر کرناہے۔ مشاہد حسین نے امریکہ پر تنقید کی اور کہا کہ وہ بھارت کو علاقائی پولیس کا کردار سونپ رہا ہے جوکہ ان کے مطابق غلط ہے۔
خورشید محمود قصوری نے بھارت کے ساتھ جامع مذاکرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر، سیاچین اور سرکریک کے مسائل حل ہونے چاہیے۔ لیکن انہوں نے کہا اس بارے میں سست رفتاری سے پیش رفت ہورہی جوکہ ان کی نظر میں کچھ نہ ہونے سے پھر بھی بہتر ہے۔
انہوں نے افغانستان کے صدر حامد کرزئی کے اس بیان کا حوالہ بھی دیا جس میں پاکستان پر دراندازی کرنے اور طالبان شدت پسندوں کی حمایت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں اور کہا کہ انہیں اس بیان پر افسوس ہوا ہے۔
وزیر خارجہ نے اپنے محتاط انداز میں ظاہرکردہ رد عمل میں کہا کہ ابھی تو انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ جو باتیں افغان صدر سے منسوب اخبارات میں شائع ہوئی ہیں وہ انہوں نے کی بھی ہیں کہ نہیں۔ لیکن انہوں نے کہا کہ اگر ان سے منسوب باتیں درست ہیں تو یہ افسوس ناک بات ہے۔
انہوں نے کہا کہ مضبوط افغانستان ہی پاکستان کے مفاد میں ہے اور دونوں ممالک میں بہتر تعلقات کے نتیجے میں ہی دو طرفہ تجارت بڑھی ہے۔ ان کے مطابق چار برس قبل دو طرفہ تجارت کو محض تئیس ملین ڈالر تھی، وہ اب ڈیڑھ ارب ڈالر ہوچکی ہے۔ خورشید محمود قصوری نے کہا کہ دونوں ممالک کی قیادت کو میڈیا کے بجائے سفارتی ذرائع سے بات کرنی چاہیے۔