Thursday, 18 May, 2006, 23:46 GMT 04:46 PST
افغان صدر حامد کرزئی نے الزام لگایا ہے کہ پاکستانی مدرسوں میں افغان طلبہ کو افغان اور غیرملکی اہلکاروں پر حملے کرنے کے لیے اکسایا جاتا ہے۔
صدر کرزئی گزشتہ روز صوبہ کنڑ کے دارالحکومت اسدآباد میں ایک جلسے سے خطاب کر رہے تھے۔
انہوں نے کہاکہ ایک افغان نوجوان جو ہجرت یا بے چارگی کے ہاتھوں مجبور ہوکر پاکستان کے کسی مدرسے میں جاکر تعلیم حاصل کرتا ہے، وہاں کوئی اسے اکستا ہے کہ جاؤ افغانستان میں کسی عالم دین کو شہید کردو، اسکے بیٹے کو شہید کردو، بیٹی کو بے گھر کردو، غیر ملکی کو شہید کر دو، امریکی انجنیئر جو ہمارے لیے سڑک بناتا ہے اسے ماردو، ہندوستانی انجنیئر جو ہمارے لیے ٹیلی فون نصب کرتا اسے ماردو۔
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف سے ہونے والی گفتگو کے بارے میں صدر حامد کرزئی نے کہا ’میں نے کہا کہ بھائی مشرف صاحب، ایسا وقت تھا کہ افغانستان کی حکومتیں پاکستان میں بنتی تھیں۔ وہ الگ وقت تھا۔ ہم اس وقت مہاجر تھے۔ اب یہ خواب و خیال چھوڑ دیں کہ افغانستان کی حکومت غیر بنائیں گے۔‘
’دوسری بات یہ ہے کہ جسے آپ پاکستان میں سٹریٹجک ڈپتھ کہتے ہیں یعنی میری سرزمین آپ کا اڈہ ہوگی اور میری مٹی کو آپ اپنے اڈے کے طور پر استعمال کریں گے ۔۔۔ اور میری کوئی حیثیت نہیں ہوگی۔۔۔ یہ بھی بھول جائیں، یہ بھی ناممکن ہے۔‘
دوسری طرف پاکستان کے وزیر اطلاعات محمد علی درانی نے صدر حامد کرزئی کی طرف سے لگائے الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ صدر کرزئی کو بغیر کسی ثبوت کے ایسے بیانات نہیں جاری کرنے چاہیں۔
بی بی سی اردو سروس سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک مستحکم افغانستان پاکستان کے بھی مفاد میں ہے۔
’پاکستان چاہتا ہے کہ افغانستان میں استحکام آئے اور پاکستان میں بسنے والے تیس لاکھ افغان مہاجرین کی وطن واپسی کی راہ ہموار ہو۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ خود پاکستان کو ایک مشکل صورت حال کا سامنا ہے لیکن وہ دوسروں پر الزام لگانے کی بجائے خود اس پر قابو پانے کی کوشش کرتا ہے۔