Wednesday, 17 May, 2006, 14:12 GMT 19:12 PST
ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں حکام کا کہنا ہے کہ بدھ کے روز مقامی شدت پسندوں نے ایک فوجی قافلے پر تازہ حملے کیے جن میں ایک فوجی ہلاک اور چار زخمی ہوئے ہیں۔
مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جوابی کارروائی کرتے ہوئے سکیورٹی فورسز نے دس قبائلیوں کو حراست میں لیا ہے۔
صدر مقام میران شاہ سے موصول اطلاعات کے مطابق یہ حملہ دو پہر ساڑھے تین بجے کے قریب ہوا۔ نامعلوم مسلح افراد نے فوجی قافلے پر گھات لگا کر دتہ خیل کے علاقے سے تقریباً تین کلومیٹر دور مائزر گاؤں کے قریب یہ حملہ کیا۔
اس حملے میں ایک فوجی ہلاک جبکہ چار فوجیوں کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے دس افراد کو حراست میں لیا ہے۔
ایک روز قبل میران شاہ رزمک روڈ پر مشتبہ شدت پسندوں کے حملے میں ایک فوجی کے علاوہ آٹھ حملہ آور ہلاک ہوئے تھے۔
اس حملے میں ہلاک مقامی قبائلیوں کی لاشوں کو حکام نے بدھ کو ان کے لواحقین کے حوالے کر دیا ۔ میران شاہ سے رکن قومی اسمبلی کا کہنا ہے کہ یہ تمام مقامی افراد تھے اور ان میں کوئی بھی غیر ملکی نہیں تھا۔
بعض سرکاری اہلکاروں نے مطابق ہلاک ہونے والوں میں تین غیر ملکی بھی تھے۔
ادھر مقامی طالبان نے کل کے حملے میں اپنے کسی ساتھی کی ہلاکت کی تردید کی ہے۔ شدت پسندوں کے ترجمان عبداللہ فرہاد کا کہنا تھا کہ ان کے ساتھی حملے کے بعد فرار ہونے میں کامیاب رہے تھے اور سکیورٹی فورسز نے عام قبائلیوں کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔
ترجمان نے ایک مرتبہ پھر قبائلیوں کو مقامی انتظامیہ سے رابطے کرنے سے باز رہنے کے لیئے کہا۔