http://bbc.com.im/urdu/

Tuesday, 16 May, 2006, 07:56 GMT 12:56 PST

ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

وزیرستان: فوجی سمیت گیارہ ہلاک

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں تشدد کے دو مختلف واقعات میں ایک فوجی اور دو خاصہ داروں سمیت گیارہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

میران شاہ کی صورت حال پر خصوصی ضمیمہ

حکام کے مطابق شمالی وزیرستان کے قصبے میران شاہ میں شدت پسندوں کے ساتھ جھڑپ میں ایک فوجی اور آٹھ شدت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔

دوسری جانب پیر کی رات صدر مقام میران شاہ کے مرکزی بازار میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے دو خاصہ دار اہلکار ہلاک ہوئے گئے تھے۔

مشتبہ عسکریت پسندوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان تازہ جھڑپ منگل کی صبح نو بجے کے قریب میران شاہ سے رزمک جانے والی سڑک پر ٹل کے مقام پر ہوئی۔

مقامی حکام کا کہنا ہے کہ مقامی شدت پسندوں نے نیم فوجی ملیشیا کی ایک ایڈوانس پارٹی پر گھات لگا کر حملہ کیا۔

اس حملے میں ایک سپاہی موقع پر ہلاک جبکہ حکام کے مطابق جوابی کارروائی میں سات حملہ آور بھی ہلاک کر دیئے گئے۔ سکیورٹی فورسز نے علاقے کا محاصرہ کیا ہوا ہے۔

اس سے قبل پیر کی رات نصف شب کے بعد نامعلوم مسلح افراد نے میران شاہ بازار میں گشت کرنے والے دو خاصہ داروں جن کے نام جنتری گل اور حبیب اللہ بتائے جاتے ہیں، گولی چلا کر ہلاک کر دیا۔
وزیرستان میں فوجی دستوں نے پوزیشنیں سنبھال رکھی ہیں

دونوں مقامی قبائلی پولیس کے اہلکار موقع پر ہلاک ہوگئے۔ حملہ آور بعد میں فرار ہونے میں کامیاب رہے۔ کسی نے ابھی تک اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

مقامی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی علاقے میں موجودہ حالات کا نتیجہ ہوسکتی ہے۔

ادھر مقامی شدت پسندوں نے پیر کے روز اپنے ترجمان کی تبدیلی کا اعلان بھی کیا ہے۔ طارق جمیل کا کہنا تھا کہ ان کی شوری نے انہیں تبدیل کر کے ان کی جگہ عبداللہ فرہاد نامی شخص کو نیا ترجمان مقرر کیا ہے۔

تاہم طارق جمیل نے اس تبدیلی کی وجہ نہیں بتائی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی شوری نے انہیں مزید کچھ کہنے سے منع کیا ہے۔

طارق جمیل اس سال مارچ سے سکیورٹی فورسز کے خلاف کارروائی میں مقامی شدت پسندوں جنہیں طالبان بھی کہا جاتا ہے کے حوالے سے بی بی سی پر بیانات جاری کرتے رہے ہیں۔