Tuesday, 16 May, 2006, 22:57 GMT 03:57 PST
ندیم سعید
بی بی سی ا ردو ڈاٹ کام، ملتان
اسلام آباد کی قائداعظم یونیورسٹی میں فزکس کے سابق پروفیسر ڈاکٹر اے ایچ نیّر نے اٹامک سینٹر سے ملحق جنگل میں آتشزدگی سے تابکاری کے پھیلاؤ کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
ڈآکٹر نیّر کہتے ہیں کہ ڈیرہ غازی خان ایک انتہائی گرم علاقہ ہے جہاں لیچنگ پاؤنڈز میں پانی کی مقررہ مقدار کو برقرار رکھنا مشکل ہوسکتا ہے۔
اس صورتحال میں آگ اور اس کا دھواں تابکار مادوں کو اڑا کر دور دور تک لے جاسکتا ہے جو کہ ایک خطرناک بات ہے۔
پروفیسر نیّر کا کہنا تھا کہ اب یہ اٹامک انرجی کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان تمام آبادیوں کا ’تابکاری سروے‘ کرائے جہاں جہاں یورینیم مِلنگ پلانٹ کے جنگل کو لگنے والی آگ کا دھواں اور راکھ ذرات کو اڑا کر لے جا سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ ڈیرہ غازی خان کے علاقے بغلچور میں اٹامک انرجی کمیشن کی طرف سے جوہری فضلہ ڈمپ کرنے کے حوالے سے مقامی آبادی میں پہلے ہی تشویش پائی جاتی ہے اور اب یورینیم صاف کرنے والے کارخانے کے قریب آگ لگنے کے واقعہ نے لوگوں کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔