Tuesday, 16 May, 2006, 20:42 GMT 01:42 PST
ندیم سعید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ملتان
ڈیرہ غازی خان میں قائم پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے ایک سینٹر اور وہاں پر کام کرنے والے اہلکاروں کے رہائشی علاقے سے ملحقہ جنگل میں پیر کی رات لگنے والی آگ پر منگل کی صبح قابو پا لیا گیاہے تاہم آگ سے دو کلومیٹر علاقے میں ہر چیز جل کر راکھ ہو گئی ہے۔
ڈیرہ غازی خان کی ضلعی انتظامیہ کی طرف سے ایک تجربہ کار افسر محمود جاوید بھٹی نے آگ بجھانے کے کام کی نگرانی کی اور مقامی فائر بریگیڈ کی گاڑیاں ناکافی ہونے پر ملتان سمیت دوسرے علاقوں سے بر وقت مدد طلب کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
رابطہ کرنے پر انہوں نے بتایا کہ آگ بہت شدید تھی اور اس سے نہ صرف جنگل کا ایک وسیع علاقہ متاثر ہوا ہے بلکہ اٹامک انرجی کمیشن کی ایک چیک پوسٹ بھی آگ کی لپیٹ میں آکر راکھ ہوگئی ہے۔تاہم کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔
آگ لگنے کی ممکنہ وجہ بارے ان کا خیال تھا کہ دن میں درجہ حرارت اڑتالیس سے پچاس ڈگری تک پہنچ جاتا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اس تپش میں خشک پتوں وغیرہ میں چنگاری بھڑک اٹھی ہو جس نے بعد میں ’جنگل کی آگ‘ کی شکل اختیار کر لی ہو۔ ’آگ لگنے والی جگہ ایک ممنوعہ علاقہ ہے اور یہ ممکن نہیں کہ کوئی وہاں سے گزرا ہو اور اس نے جلتا ہوا سگریٹ یا ماچس کی تیلی پھینک دی ہو‘۔
عینی شاہدین کے مطابق جنگل میں دو کلومیٹر کے علاقے میں آگ نے ہر چیز کو جلا کر رکھ دیا ہے۔