Monday, 15 May, 2006, 08:01 GMT 13:01 PST
عدنان عادل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام لاہور
اتوار کے دن لاہور میں ایک دس سالہ بچی گلے پر ڈور پھرنے سے ہلاک ہوگئی جو گزشتہ تین ماہ میں پتنگ ڈور سے ہونے والی چالیسویں ہلاکت ہے۔
اتوار کے دن فیروز پور روڈ اچھرہ کی سڑک پر کٹی ہوئی پتنگ کی ڈور دس سالہ بچی اقصیٰ کے گلے پر پھر گئی جو اپنے والد کے ساتھ موٹر سائکل پر آگے بیٹھی ہوئی تھی۔
اقصیٰ کے والد نے خون میں لت پت بچی کو ہسپتال پہنچایا لیکن وہ بچ نہ سکی کیونکہ ڈاکٹروں کے مطابق اس کی شہ رگ گہرائی سے کٹ گئی تھی اور بہت خون بہہ چکا تھا۔ وہ اپنے ماں باپ کی اکلوتی بیٹی تھی۔
اس سال سترہ مارچ کو سپریم کورٹ نے پنجاب حکومت سے کہا تھا کہ وہ پتنگ بازی کی وجہ سے ہلاک ہونے والے لوگوں کے ورثاء کو تلافی کی رقم دے کیونکہ وہ اس کی غفلت کی وجہ سے ہلاک ہوئے ہیں۔
عدالت عظمیٰ میں پنجاب کے سابق گورنر شاہد حامد نے کہا تھا کہ اس سال تیرہ فروری سے پندرہ مارچ تک پتنگ بازی کے باعث اڑتالیس افراد ہلاک ہوئے۔ اس کے بعد بائیس مارچ کو لاہور میں ایک بچہ پتنگ لوٹتےہوئے ٹرین کے نیچے آکر ہلاک ہوگیا تھا۔
پتنگ بازی پر پابندی کے باوجود لاہور میں پتنگ بازی جاری رہتی ہے۔ لاہور پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے پتنگ بازی پر چھ سو مقدمات درج کیے لیکن اس کے باجود لوگ پتنگ بازی سے باز نہیں آتے۔
تاہم عام لوگوں کا کہنا ہے کہ پولیس پتنگ بازوں کو رشوت لے کر رہا کردیتی ہے اور انہیں قانون کے مطابق سزا نہیں دلواتی جسے غیرقانونی پتنگ بازی کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔
سپریم کورٹ نے پتنگ بازی سے ہونے والی ہلاکتوں کے معاملہ پر سماعت کے لیے چھبیس مئی کی تاریخ مقرر کی ہوئی ہے۔