Friday, 12 May, 2006, 03:54 GMT 08:54 PST
ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
کراچی میں نشتر پارک بم دھماکے کو ایک ماہ گزرنے کے بعد بھی تحقیقاتی ادارے ملزمان اور ان کے گروہ کا سراغ نہیں لگا سکے ہیں۔
گیارہ اپریل کو عیدمیلادالنبی کے جلسے میں ہونے والے بم دھماکے میں ستاون سے زائد لوگ ہلاک ہوئے، جن میں سنی تحریک کی قیادت بھی شامل ہے ۔
سنی تحریک نے صوبائی حکومت پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی تفتیش وفاقی تحقیقاتی اداروں سے کروانے کا مطالبہ کیا تھا جس کے بعد وفاقی ادارے شامل تفتیش ہوگئے تھے۔
صدر جنرل پرویز مشرف نے دھماکے کے بعد کراچی پہنچ کر مذہبی علماء سے ملاقات کی تھی۔ جس میں انہوں نے یقین دہانی کروائی تھی کہ وہ خود اس تحقیقات کی نگرانی کرینگے۔
پولیس نے نشتر پارک سے ملنے والے مشتبہ خودکش بمبار کے سر کی تصویر پاکستان میں قومی شناختی کارڈ جاری کرنے والے ادارے نادرا کو بھیج کر رکارڈ طلب کیا تھا مگر نادرا کے پاس بھی اس کا کوئی رکارڈ موجود نہیں تھا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مختلف زاویوں سے تحقیقات جاری ہے اور کسی نتیجے پر پہنچنے سے قبل کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔
دھماکے میں قیادت سے محروم ہونے والی جماعت سنی تحریک کا کہنا ہے کہ نشتر پارک واقعے کو سرد خانے کے حوالے کیا جارہا ہے۔ تحریک کی نگرانی کمیٹی کے رہنما شاہد غوری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اب تک کی تحقیقات سے انہیں بے خبر رکھا گیا ہے۔ تحقیقاتی ادارے ابھی تک حملے میں ملوث گروہ اور خودکش بمبار کی شناخت کے حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں کرسکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت پر ہمیں کوئی اعتماد نہیں اس لئے ہم نے ان کی تعزیت بھی قبول نہیں کی ہے جبکہ واقعے کے بعد جو وفاقی وزراء آئے تھے انہوں نے بھی کوئی رابطہ نہیں کیا ہے۔
شاہد غوری کے مطابق اہل سنت جماعتوں کے فیصلے کے مطابق ہم نے حکومت کو چھبیس مئی تک کی مہلت دی ہے اور اس وقت تک حقائق سامنے نہیں لائے گئے تو ستائیس مئی کو کراچی میں مکمل ہڑتال کی جائیگی۔
واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی قونص خانے اور مدینۃ العلم مدرسے پر
حملہ کرنے والے خودکش بمباروں کا بھی پولیس کوئی سراغ نہیں لگا سکی تھی۔
پولیس اس دھماکے کو خودکش حملہ قرار دیتی رہی ہے جبکہ مذہبی جماعتوں کے رہنما قاضی حسین احمد، مولانا فضل الرحمان اور سنی تحریک کا کہنا ہے کہ حکومت نے اپنی ذمے داری سے بچنے کے لیئے اس دھماکے کو خودکش حملہ قرار دیا ہے۔