Thursday, 11 May, 2006, 16:26 GMT 21:26 PST
ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
سندھ میں صوبائی حکومت اپنے اتحادیوں کو راضی رکھنے کے لیئے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ وفاق کی طرح اب سندھ میں بھی وزراء اور مشیروں کی ایک بڑی تعداد حکومت میں شامل ہے۔
صوبائی حکومت کی اس بیالیس رکنی ٹیم میں مسلم لیگ (ق) ، فنکشنل لیگ ، پی پی پیٹریاٹ کے ساتھ دیگر پارٹیوں سے منحرف ہوکر آنے والے سیاستدان بھی شامل ہیں، جن میں سے کسی کو وزیر تو کسی کو مشیر یا معاون بنایا گیا ہے۔
سن دو ہزار دو میں حکومت کی تشکیل کے بعد حکمران پارٹی نے اتحادیوں کو ایڈجسٹ کرنے کے لیئے جہاں نئے محکمے متعارف کروائے وہاں کچھ محکموں کو تقسیم کر دیا۔ ایسے محکموں میں وزارت بین الصوبائی اور ویمن ویلفئیر صرف سندھ میں موجود ہے۔
حکومت میں شامل سترہ مشیروں میں سے آٹھ کے پاس کوئی محکمہ نہیں جبکہ ساتوں معاونین کو بھی کوئی ڈیپارٹمنٹ نہیں دیا گیا۔
صوبائی محکموں سے زیادہ مشیروں اور معاون کی تقرری کے بعد حکومت کو ان کے لیئے دفاتروں کی کمی کا سامنا کرنا پڑا۔ جس سے نمٹنے کے لیئے ایم پی اے ہاسٹل کے گراونڈ فلور پر کچھ معاون اور او ایس ڈیز کے دفاتر قائم کیئے گئے تو کچھ کو سرکاری دفاتر میں دفتر فراہم کیئے گئے۔
![]() | |
| مشیر بطور آفیشل آن سپیشل ڈیوٹی بھی کام کر رہے ہیں |
ان سترہ مشیروں میں سے صرف آٹھ کو صوبائی وزیر کا درجہ حاصل ہے۔
اس طرح بائیس آفیسر آن اسپیشل ڈیوٹی ہیں، جنہیں انیس اور بیس گریڈ کے افسران کو ملنے والی مراعات حاصل ہیں۔
یہ او ایس ڈی وزیر اعلیٰ ہاوس میں مقرر ہیں جن میں سے کچھ میڈیا سے ڈیل کرنے کے امور سرانجام دے رہے ہیں۔
حکومت کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق صوبائی وزیر تنخواہ اور الاؤنس کے مد میں ماہانہ بیاسی ہزار رپے حاصل کرتے ہیں۔ جبکہ انہیں خاندان سمیت مفت میڈیکل اور تین لاکھ سالانہ صوابدیدی گرانٹ بھی حاصل ہے۔
![]() | |
| ’لوگوں کے کام کرواتی ہوں‘ |
اس طرح مشیر تنخواہ اور الاؤنس کی مد میں ماہانہ اکتالیس ہزار حاصل کرتے ہیں۔ انہیں بھی مفت طبی سہولت حاصل ہے۔ دفتر کے فون کی کوئی حد نہیں ہے، جبکہ گھر کے ٹیلیفون کے لیئے دو ہزار روپے مقرر ہیں بجلی اور گیس کے بلوں کی ادائیگی اور گاڑی کی مرمت حکومت کی ذمہ داری ہوگی۔ حکومت انہیں ہر سال صوابدید پر استعمال کے لیئے ایک لاکھ سالانہ گرانٹ بھی جاری کرتی ہے۔
معاون کے لیئے بتیس ہزار ماہانہ تنخواہ اور الاؤنس مقرر ہے۔ انہیں بھی مفت طبی سہولت کے ساتھ، بجلی اور ٹیلیفون کی سہولت حاصل ہے۔
سندھ حکومت کی ایک معاون بانو صغیر صدیقی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے پاس ایک سیکریٹری، ایک نائب قاصد اور دو گارڈ ہیں جو بارہ بارہ گھنٹے ڈیوٹی کرتے ہیں۔
سندھ کے وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم نے صوبائی اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں ایوان کو بتایا تھا کہ ان معاونین کو گڈ گورننس کے حوالے سے حکومت اسائنمنٹ دیتی رہتی ہے۔
جب بانو صغیر سے پوچھا گیا کہ آپ وزیر اعلیٰ کی کس قسم کی معاونت کرتی ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ ’میرے پاس علاقے کے لوگوں کے علاوہ دیگر علاقوں سے لوگ مسائل لیکر آتے ہیں، ان مسائل کو حل کرانے کی کوشش کرتی ہوں، جس کے لیئے کبھی تو لوگوں کو چٹھیاں لکھ کردیتی ہیں تو کہیں خود ساتھ جاتی ہوں‘۔