Thursday, 11 May, 2006, 12:22 GMT 17:22 PST
ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
کراچی میں پولیس نے لاٹھی چارج کے بعد چار خواتین اور تین بچوں سمیت پچاس سے زائد مزدوروں کو حراست میں لے لیا ہے۔
دادو اور ٹھٹہ شگر ملز سے تعلق رکھنے والے یہ مزدور بدھ کو جیسے ہی کراچی پریس کلب سے گورنر ہاؤس کی جانب روانہ ہوئے تو پولیس اہلکاروں نے انہیں چاروں طرف سے گھیر لیا۔
پولیس کے ساتھ لیڈی پولیس بھی موجود تھی، جنہوں نے مردوں اور خواتین کو سخت تشدد کا نشانہ بنایا۔
لاٹھی لگنے کی وجہ سے کچھ مزدور زخمی بھی ہوگئے جبکہ لیڈی پولیس نے مزدورں کے ساتھ احتجاج میں موجود خواتین کو بالوں سےگھسیٹ کر موبائیلوں میں ڈالا۔
![]() | |
| پولیس لاٹھی چارج کر رہی ہے |
حکومت کی جانب سے انیس سو ننانوے میں دادو اور ٹھٹہ شگر ملز کو بند کرنے کے بعد ڈہائی ہزار ملازم بیروزگار ہوگئے تھے۔
![]() | |
| عورتوں کو گھسیٹا جا رہا ہے |
چھبیس اپریل سے ملازمین نے اپنے اہل خانہ کے ساتھ کراچی پریس کلب کے سامنے بھوک ہڑتال شروع کی ہوئی تھی۔ اور بدھ کے روز گونر ہاؤس تک مارچ کا اعلان کیا گیا تھا۔
مزدور رہنما صاحب خان کھوسو اور ممتاز علی نے کہا کہ حکومت نے فیصلہ کیا تھا کہ پچاس سال سے کم عمر لوگوں کو سرکاری محکموں میں ضم کیا جائیگا جبکہ پچاس برس سے زائد عمر کے ملازمین کو گولڈن ہینڈ شیک دے کر ریٹائر کیا جائیگا۔
![]() | |
| مزدوروں نے کہا ہے کہ احتجاج جاری رہے گا |
انہوں نے کہا کہ ہمارا گورنر ہاؤس کی جانب پر امن مارچ تھا جسے پر تشدد بنایا گیا۔ مرد پولیس اہلکاروں نے بھی خواتین کو تشدد کا نشانہ بنایا اور ہمارے ساتھیوں کو گرفتار کرنے کے بعد غائب کر دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا احتجاج جاری رہیگا۔
واضح رہے کہ سندھ میں اس وقت تیس شگر ملزموجود ہیں۔ دادو شگر ملز اور
ٹھٹہ شگر ملز سندھ حکومت کی ملکیت تھیں جنہیں خسارے میں قرار دے کر بند کر دیا گیا تھا۔