Tuesday, 09 May, 2006, 21:39 GMT 02:39 PST
علی سلمان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام لاہور
پاکستان کے شہر لاہور میں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے ایک ایسے نوجوان کو موت کی سزا دی ہے جس پر الزام ہے کہ اس نے گزشتہ برس تیرہ افراد کو مختلف اوقات میں پتھر سے سر کچل کر ہلاک کر دیا تھا۔
استغاثہ کے مطابق پولیس نے اس نوجوان کو سلسلہ وار قتلوں کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔
لاہورمیں گزشتہ برس جون اور جولائی کے مہینوں میں کم از کم تیرہ افراد
کو پُرارسرار حالات میں قتل کیا گیا تھا اور ان کی لاشیں اس انداز میں شہر کے مختلف حصوں سے ملی تھیں کہ ان کے سرکچلے ہوئے تھے اور قریب ہی وہ خون آلود پتھر بھی پڑے تھے جن سے انہیں مبینہ طور پر ہلاک کیا گیا تھا۔
استغاثہ کے مطابق پولیس نے ملزم محمد عامر قیوم کو برس انیس جولائی کی صبح گرفتار کیا تھا اور ان الزام عائد کیا کہ وہ ایک شخص بلا سائیں کا سرکچل کر فرار ہو رہے تھے کہ مقامی چوکیدار نے دیگر افراد کی مدد سے انہیں گرفتار کر لیا۔
پولیس نے ڈیڑھ ماہ کے دوران ہونے والے اسی نوعیت کے مزید بارہ افراد کے قتل میں انہیں بعد میں نامزد کیا اور الگ الگ چالان عدالت میں پیش کر دیئے گئے۔
یہ تمام مقدمات انسداد دہشت گردی کی عدالت میں زیر سماعت رہے اور بحث اور دلائل مکمل ہونے کے بعد گزشتہ ہفتے عدالت نے تمام مقدمات پر اپنے فیصلے محفوظ کر لیے تھے۔
منگل کو خصوصی عدالت کے جج مکرّم خان نے اس ایک مقدمہ میں انہیں سزائے موت دیدی جس میں ان پر ایک شخص بلا سائیں کے قتل کا الزام تھا اور پولیس کے بقول وہ اس ہلاکت کے موقع پرجائے واردات سے پکڑے گئے تھے۔
استغاثہ کے مطابق انہوں نے سپرنٹنڈنٹ پولیس اشعر حمید کے روبرو اپنے ایک بیان میں ان تمام تیرہ افراد کے قتل کا اعتراف کیا تھا لیکن بعد عدالت میں وہ اپنے اس بیان سے منحرف ہوگئے تھے اور انہوں نےکہا تھا کہ پولیس نے انہیں شبہ کی بنیاد پر گرفتار کیا ہے اور وہ بے گناہ ہیں۔
ملزم عامر قیوم کا تعلق ایک غریب گھرانے سے بتایا ہے جاتا ہے جبکہ ان پر جن افراد کے قتل کا الزام ہے ان کا تعلق ایک ایسے طبقے سے ہے جو اپنی غربت کی وجہ سے کھلے آسمان تلے زندگی بسر کرنے پر مجبور تھے۔
قتل کے باقی بارہ مقدمات کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے تاہم ایک مقدمہ میں سزائے موت ہوجانے کے بعد اب انہیں جیل سے باہر نہیں لایا جاسکتا۔ استغاثہ کے مطابق آئندہ ان کے لیئے جیل میں انسداد دہشت گردی کی عدالت لگائی جائے گی اور باقی مقدمات کا فیصلہ سنایا جائے گا۔