Monday, 08 May, 2006, 14:19 GMT 19:19 PST
علی سلمان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام لاہور
پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان کی فوج کے سربراہ صدر جنرل مشرف نے فوج کو حکمران مسلم لیگ کے ساتھ نتھی کردیا ہےاور اگر فوج حکمران مسلم لیگ کے ساتھ ہے تو انتخابات میں کوئی دوسری سیاسی جماعت کامیابی حاصل نہیں کر سکتی۔
لاہورمیں تحریک انصاف کے دفتر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نےصدر جنرل مشرف کے اس عمل کو پری پول رگنگ قرار دیا۔
عمران خان نے کہا کہ ’بلوچستان اور شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائی سے ملک کی سالمیت خطرے میں پڑ چکی ہے اور میں مطالبہ کرتا ہوں کہ فوج فوری طور پر بلوچستان اور وزیرستان سے نکل جائے۔ ‘
عمران خان نے صدر جنرل مشرف کی حکمران مسلم لیگ کے معاملات میں براہ راست مداخلت کو تنقید کا نشانہ بنایااور کہا کہ ’صدر مشرف چیف آف آرمی سٹاف ہونے کے باوجود حکمران مسلم لیگ کے ساتھ جاکر کھڑے ہوگئے ہیں اور کھلے عام ان کے الیکشن کے معاملات چلا رہے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ’ صدر مشرف کی اس پالیسی کی وجہ سے فوج کو بہت نقصان ہورہا ہے اور عوام میں فوج کے خلاف نفرت جنم لے رہی ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’اگر پاکستان کا الیکشن کمیشن خود مختار ہے تو وہ اس معاملے کا نوٹس لے‘ کیونکہ ان کے بقول اس طریقے سے پری پول رگنگ شروع ہوچکی ہے۔
عمران خان نے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کے درمیان چارٹر آف ڈیموکریسی پرمفاہمت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ’ اس پر اپوزیشن کی تمام جماعتوں کو متفق ہوجانا چاہیے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’اب وقت آگیا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اسمبلیوں سے مستعفیٰ ہوکر صدر مشرف کو ہٹانے کے لیے تحریک چلائیں۔‘
عمران خان مجلس عمل کے ہمراہ ستمبر میں حکمرانوں کے خلاف اسلام آباد میں احتجاجی دھرنا دینے کا اعلان کر چکے ہیں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’اگر مجلس عمل نے کسی وجہ سے اپنا پروگرام تبدیل کرلیا تو بھی ان کی پارٹی دھرنا ضرور دے گی۔‘