Friday, 05 May, 2006, 16:29 GMT 21:29 PST
عزیزاللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ
متحدہ مجلس عمل کے مرکزی اور صوبائی قائدین نے ایک مرتبہ پھر ملک میں شریعت نافذ کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور ایرانی عوام کو یقین دلایا ہے کہ ایران پر امریکی حملے کی صورت میں پاکستانی عوام ایران کے ساتھ ہونگے۔
کوئٹہ کے میزان چوک پر نفاذ شریعت کانفرنس سے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمان اور رکن قومی اسمبلی لیاقت بلوچ نے فوجی حکمرانوں کی پالیسیوں پر سخت تنقید کی ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ افغانستان میں طالبان حکومت پاکستان نواز حکومت تھی لیکن اب وہاں بھارت نواز حکومت ہے۔ طالبان نے کبھی ڈیورنڈ لائن کا مسئلہ نہیں اٹھایا جبکہ اب اس تنازعے کو اٹھایا جا رہا ہے۔
انہوں نے ایرانی عوام اور فلسطین میں حماس کی مکمل حمایت کا اعلان کیا اور کہا کہ اگر امریکہ ایران پر حملہ کرتا ہے تو پاکستانی عوام ایرانی عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ موجودہ حکومت دینی مدارس کی سند کے حوالے سے ان پر دباؤ ڈالنا چاہتی ہے لیکن وہ پارلیمانی سیاست کو ترجیح نہیں دیتے اگر حکومت ان کے خلاف عدالت میں جاتی ہے تو وہ اس کا دفاع نہیں کریں گے لیکن حکومت یہ جان لے کہ مجلس عمل اگر سڑکوں پر آجائے تو شاید زیادہ خطر ناک ثابت ہو سکتی ہے۔
مجلس عمل کے لیڈر لیاقت بلوچ نے اپنی تقریر میں کہا ہے کہ بلوچستان اور قبائلی علاقوں میں مبینہ فوجی کارروائی فوری طور پر بند کی جائے اور بلوچستان اسمبلی اور پارلیمانی رپورٹ کے مطابق مسئلے کا حل تلاش کیا جائے کیونکہ فوجی کارروائی کبھی بھی مسئلے کا حل نہیں رہا ہے۔
کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی مولوی نور محمد نے اپنی تقریر میں اس نکتے پر زور دیا کہ اتحاد برائے بحالی جمہوریت اور حزب اختلاف سے مذاکرات میں مجلس عمل کے قائدین نے شریعت کے نفاذ کا مطالبہ سامنے نہیں رکھا ہے۔ انہوں نے بلوچستان میں دستور العمل اور دیوانی دفعات کو رائج اور نافذ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
بلوچستان میں مسلم لیگ اور مجلس عمل کی مخلوط حکومت قائم ہے اور نفاذ شریعت کے حوالے سے کمیٹی بھی قائم ہے۔ اب ساڑھے تین سال گزر جانے کے باوجود بلوچستان اسمبلی میں اس کمیٹی کی رپورٹ پیش نہیں کی گئی ہے۔