http://bbc.com.im/urdu/

Wednesday, 03 May, 2006, 03:25 GMT 08:25 PST

اعجاز مہر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

اسلام آباد میں پانی کی شدید قلت

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں پانی کی شدید قلت ہوگئی ہے اور انتظامیہ نے رہائشیوں سے اپیل کی ہے کی ہے کہ وہ پانی استعمال کرتے وقت احتیاط کریں اور کم سے کم پانی استعمال کریں۔

اسلام آباد کی دیکھ بھال کے ادارے کیپیٹل ڈیولپمینٹ اتھارٹی یعنی ’سی ڈی اے‘ کے ڈائریکٹر جنرل سروسز جہانزیب خان کا کہنا ہے کہ راول ڈیم میں پانی کی سطح خاصی کم ہوگئی ہے اس لیے انہوں نے پانی کی ’راشننگ‘ کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں ایک روز پانی فراہم کیا جاتا ہے اور ایک روز فراہمی بند رکھی جاتی ہے۔ تاہم ان کے مطابق شہر میں جہاں ضرورت پڑتی ہے تو ایک سو روپے جمع کرانے پر واٹر ٹینکر پہنچایا جاتا ہے۔

اسلام آباد کے سیکٹر ’جی نائن فور‘ کے ایک رہائشی محمد فیصل کا کہنا ہے کہ وہ ’سی ڈی اے‘ کے پاس جب واٹر ٹینکر کے لیے جاتے ہیں تو طویل قطار میں انہیں انتظار کرنا پڑتا ہے اور جب انہیں نمبر ملتا ہے تو ان کی باری دو تین روز تک نہیں آتی۔

انہوں نے الزام لگایا کہ سی ڈی اے انتظامیہ والے عام شہریوں سے سات روپوں سے ایک ہزار تک فی ٹینکر لیتے ہیں اور انہیں ترجیحی بنیاد پر پانی فراہم کرتے ہیں۔

سی ڈی اے کے حکام ایسے الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ طلب اتنی زیادہ ہے کہ وہ پوری نہیں کر پاتے اور اس لیے انہیں دشواری ہوتی ہوگی۔

تقریبا سات لاکھ کی آبادی والے شہر اسلام آباد اور گرد نواح میں بڑے پیمانے پر حکومت اور نجی کمپنیوں نے متعدد رہائشی منصوبے شروع کر رکھے ہیں اور کئی کثیر المنزلہ عمارتیں بھی تعمیر ہو رہی ہیں۔

ایسی صورتحال میں ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ بھی پانی کی شدید قلت رہے گی اور حکومت کو اس ضمن میں منصوبہ بندی کرنی چاہیئے۔

اس بارے میں سی ڈی اے کے ڈائریکٹر جنرل جہانزیب کہتے ہیں کہ تربیلا ڈیم سے براہ راست پانی اسلام آباد لانے کے لیے ایک طویل المدت منصوبہ شروع کردیا ہے جو کہ سن دو ہزار دس تک پایہ تکمیل تک پہنچے گا۔

واضح رہے کہ اسلام آباد میں زیر زمین پانی نکالنے پر سی ڈی اے نے پابندی عائد کر رکھی ہے اور عام شہریوں کو زمین میں ’بور‘ کرانے کی اجازت نہیں ہے۔