Wednesday, 03 May, 2006, 01:31 GMT 06:31 PST
علی سلمان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
پولیس نے لاہور میں مزدوروں کے عالمی دن کے موقع پر نکالے جانے والے مشعل بردار جلوس کو روک کر لاٹھی چارج کیا جس کے جواب میں مزدوروں نے پولیس پر پتھراؤ کیا۔
پولیس نے تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد متعدد مرد اور عورتوں کو گرفتار کر لیا تاہم بیشتر کو تھا نے لے جانے کے بعد چھوڑ دیا گیا۔
آل پاکستان بھٹہ مزدور یونین اور دیگر مزدور تنظیموں کے زیراہتمام منگل کی شام لاہور کے پریس کلب میں ایک سیمینار منعقد کیا گیا۔
یہ سیمینار مزدورں کے عالمی دن کے حوالے سے شکاگو میں ہلاک ہونے والے مزدوروں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے کیا گیا اور اس سیمینار میں مطالبہ کیا گیا کہ لیبر قوانین پر عملدرآمد کرایا جائے اور مزدوروں کو دی گئی پیشگی اجرت کی واپسی پابندی لگائی جائے۔
آل پاکستان بھٹہ مزدور ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل دولت علی محسن نے کہا کہ ’بھٹہ مالکان پیشگی کی آڑ میں مزدوروں کا استحصال کرتے ہیں اور ان کی پشت در پشت کو غلام بنائے رکھتے ہیں۔‘
![]() | |
| پہلے پولیس نے بظاہر بڑے آرام سے جلوس کے شرکاء کی بات سنی |
بھٹہ مزدوروں نے سیمینار کے بعد پریس کلب سے اسمبلی ہال تک ایک مشعل بردار جلوس نکالنا چاہا۔ تاہم جب وہ مشعلیں لیکر نکلنے لگے تو پہلے سے تعینات پولیس نے ان پر لاٹھی چارج کیا۔
بھٹہ مزدور یونین کے ایک کارکن ایاز حسین نے کہا کہ ’پولیس نے خواتین کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا اور انہیں سڑک پرلٹا کر مارا۔‘
مظاہرین نے پریس کلب میں گھس کر جان بچائی تاہم انہوں نے پولیس پر اینٹیوں سے حملہ کر دیا یہ لڑائی کوئی آدھ گھنٹہ جاری رہی۔ پریس کلب کے عہدیداروں کی مداخلت سے جھگڑا ختم ہوا تاہم کارکن واپس جانے کے لیے بسوں میں بیٹھے تو پولیس اہلکار بسوں کو تھانے لےگئے۔
![]() | |
| مزدور تنظیموں کے اراکین مشعل بردار جلوس نکالنا چاہتے تھے |
آل پاکستان بھٹہ مزدور یونین کی آگنائزنگ سیکرٹری غلام فاطمہ نے کہا کہ ان کے سترہ اہلکار پولیس حراست میں ہیں تاہم پولیس نے ان کی گرفتاری کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔
پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ جلوس نکالنے پر مظاہرین کو پولیس نے سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ وہ جلوس نہ نکالیں کیونکہ جلوس نکالنے پر پابندی ہے لیکن انہوں نے پولیس پر حملہ کرکے ایک کانسٹیبل کو زخمی کر دیا اور پتھراؤ کیا۔
لاہور پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ انہیں روکنے کے لیے پولیس کو لاٹھی چارج کرنا پڑا انہوں نے کہا کہ جلوس کے شرکاء کے خلاف مقدمہ درج کیا جارہا ہے تاہم انہوں نے گرفتار شدگان کی تعداد نہیں بتائی۔