http://bbc.com.im/urdu/

Saturday, 29 April, 2006, 22:38 GMT 03:38 PST

ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کراچی

بگٹی اور مینگل پر پابندی

بلوچ رہنما اکبر بگٹی اور عطااللہ مینگل سمیت گیارہ افراد کے بیرون ملک سفر کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

پاکستان کی وزراتِ داخلہ کے ایک اعلامیے کے مطابق جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ اکبر بگٹی، آغا شاہد بگٹی، عطااللہ مینگل سمیت اکبر بگٹی کے بیٹے طلال بگٹی، پوتے میر علی عرف عبدو بگٹی، بھتیجے مرتضیٰ بگٹی، بہو رضیہ سلطانہ بگٹی، فوزیہ بگٹی، بلوچ ٹی وی کے ایم ڈی منیر مینگل اور ہمایوں خان مری کے نام ’ایگزٹ کنٹرول لسٹ‘ میں شامل کر لیئے گئے ہیں۔

دو اپریل کو جاری ہونے والے اس اعلامیے کی کاپی وزیر اعظم سیکریٹریٹ، جی ایچ کیو، ملٹری انٹیلیجنس، وفاقی تحقیقاتی ادارے، قومی احتساب بیورو اور آئی ایس آئی کو بھی بھجوا دی گئی ہے۔

سردار عطااللہ مینگل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس پابندی کی تصدیق کی اور کہا کہ حکومت نے یہ قدم ملٹری انٹیلی جنس کی سفارش پر اٹھایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس ملک کو فوج ہی چلا رہی ہے، اس لیئے ہر حکم ان ہی کا چلتا ہے۔ اس سے قبل اختر مینگل پر بھی ایسی پابندی عائد کی گئی تھی مگر عدالت نے اسے رد کیا۔ عدالت کے حکم کے باوجود ان پر دوبارہ پابندی عائد کر دی گئی۔

عطااللہ مینگل کے مطابق ان کے پاس برطانوی شہریت بھی ہے، مگر وہ یہاں ہی رہیں گے اور کہیں نہیں جائیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ انہیں ہفتے کے روز یہ خط ملا ہے جسے عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ اکبر بگٹی ایک طویل عرصے سے گوریلا کارروائیوں میں سرگرم ہیں جبکہ سردار عطااللہ مینگل پر ایک مہینے قبل ملٹری انٹیلیجنس کے دو اہلکاروں پر تشدد اور اغوا کے مقدمات درج کیا گیا تھا۔ اس واقعہ کے بعد کراچی میں سردار عطااللہ مینگل کے گھر کا ایک ہفتے محاصرہ کیا گیا۔