Friday, 28 April, 2006, 18:28 GMT 23:28 PST
ندیم سعید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ملتان
اسلام آباد کی قائد اعظم یونیورسٹی میں طبیعات کے پروفیسر اور عالمی امن کے داعی ڈاکٹر پرویز ہودبھائی نے مطالبہ کیا ہے کہ ڈیرہ غازی خان کے آباد علاقے بغلچور میں ایٹمی فضلہ ڈمپ کرنے کے معاملے کا جائزہ لینے کے لیئے ایک آزاد انکوائری کمیشن مقرر کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ بغلچور کے علاقے کا ’ریڈیو کیمیکل‘ تجزیہ کرایا جائے تاکہ وہاں تابکاری کے ممکنہ اثرات بارے اندازہ لگایا جا سکے۔ انہوں نے بغلچور کے باسیوں کا مکمل طبی معائنہ کرانے پر بھی زور دیا۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئےانہوں نے کہا کہ بغلچور میں ایٹمی فضلہ ڈمپ کرتے ہوئے پاکستان اٹامک انرجی کمیشن نے اگر مقامی لوگوں کو اعتماد میں نہیں لیا تو یہ ایک ’غیر اخلاقی‘ حرکت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکام کی اس بات کو اگر تسلیم بھی کر لیا جائے کہ ایٹمی فضلے کو تمام احتیاطیں ملحوظ خاطر رکھ کر ڈمپ کیا جا رہا تو پھر بھی علاقے میں رہنے والے لوگوں کو اس بارے آگاہی دینا اور ان کے خدشات دور کرنا ضروری تھا۔
غیر اخلاقی حرکت ہے |
ان کے مطابق عام طور پر جوہری فضلے کو آبادی سے بہت دور رکھا جاتا ہے اور اس بات کو بھی یقینی بنایا جاتا ہے کہ وہ لوگوں کے لیئے قابل پہنچ نہ ہوں۔
اسی یونیورسٹی میں نیوکلئیر فزکس کے پروفیسر ڈاکٹر اے ایچ نیئر کا کہنا تھا کہ یہ ایک سنجیدہ انسانی مسئلہ ہے اور فوری طور پر ایسے اقدامات کیئے جانے ضروری ہیں جن سے بغلچور کے لوگوں کی زندگیوں کو محفوظ بنایا جائے اور خوف کی جس فضاء میں وہ رہ رہے ہیں اسے بھی اعتماد سازی کے ذریعے ختم کیا جائے۔