Friday, 28 April, 2006, 04:04 GMT 09:04 PST
صدر جنرل پرویز مشرف نے ان پر ملک کے اندر کی جانے والی تنقید کو مسترد کر دیا ہے کہ وہ امریکہ کے کہنے پر شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں۔
برطانوی اخبار ’دی گارڈین‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ شدت پسندی کا خاتمہ پاکستان کے اپنے مفاد میں ہے اور وہ کسی کے ’پوُڈل‘ نہیں ہیں۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ضرورت پڑنے پر وہ ’کاٹ‘ بھی سکیں گے تو انہوں نے جواب دیا ’ہاں میرے دانت ہیں، بہت سارے دانت ہیں۔ لیکن اکثر ان کو نہ دکھانا ہی سمجھداری ہے۔ انٹرنیشنل رلیشنز میں عملیت پسندی ضروری ہوتی ہے۔‘
واشنگٹن کے ساتھ تعلقات کی بناء پر جنرل مشرف کو ملک کے اندر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ جنرل مشرف نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی ضروری ہے لیکن اس انٹرویو میں صدر جنرل مشرف کہتے ہیں کہ پاکستان میں القاعدہ کے خلاف خفیہ امریکی حملے پاکستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہیں۔
اس سال جنوری میں پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ میں امریکہ کی طرف سے القاعدہ کے ارکان پر میزائیل حملے کے بعد جنرل مشرف پر کی جانے والی تنقید میں مزید شدت پیدا ہو گئی تھی۔اس حملے میں ہلاک ہونے والے اٹھارہ شہریوں میں بچے اور عورتیں بھی شامل تھے۔
انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ وزیرستان میں ’طالبان آئیزیشن‘ بڑھ رہی ہے یعنی طالبان کمزور نہیں بلکہ اور طاقتور ہو رہے ہیں۔ ’لوگ شدت پسندی کی طرف جا رہے ہیں ، اور یہ اب شہری علاقوں میں بھی پھیل رہا ہے۔‘
جنرل مشرف نے کہا کہ ملک میں اگلے سال آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کرائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عجیبسی بات لگتی ہے کہ وہ وردی پہن کر جمہوریت کی بات کرتے ہیں لیکن ’مجھے اندازہ ہوا کہ پاکستان میں جمہوریت لانے کے لیے مجھے اس وردی کی ضرورت ہے۔‘
جنرل مشرف نے کہا کہ ان کا ’مِشن‘ یہ ہے کہ پاکستان کو جمہوری بنایا جائے۔ ’میری اپنی مقبولیت اس سے متاثر ہوئی ہے لیکن اس وقت ملک کو میری ضروت ہے۔ میں نے ایک مضبوط جمہوری نظام قائم کر دیا ہے اور مجھے یقین ہے کہ اس نظام کے ذریعے میرے بعد آنے رہنمائی سنبھالنے والا شخص سامنے آ سکے گا۔ مجھے جمہوریت پر بھرپور یقین ہے۔‘