Thursday, 27 April, 2006, 12:49 GMT 17:49 PST
ندیم سعید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، بغلچور
یورینیم کے وسیع ذخائر کے حوالے سے پہچانے جانے والے علاقے بغلچور میں بلوچ قبیلے بزدار کے لوگ آباد ہیں لیکن یہاں تک پہچنے کے لیئے جس علاقے رونگھن سے گزرنا پڑتا ہے وہاں ایک اور بلوچ قبیلے لغاری سے تعلق رکھنے والے لوگ رہتے ہیں۔ لغاری قبیلے کے سربراہ سابق صدر پاکستان اور موجودہ رکن قومی اسمبلی سردار فاروق احمد لغاری ہیں جبکہ بزدار قبیلے کے سردار رکن پنجاب اسمبلی فتح محمد بزدار ہیں۔
سخی سرور سے ایک ٹوٹی پھوٹی سڑک پہاڑوں سے لپٹی رونگھن تک جاتی ہے لیکن پھر بغلچور تک صرف جیپ چلنے کے قابل ایک کچا راستہ جاتا ہے۔ سخی سرور سے بغلچور تک بجلی کے کھمبے تو نظر آتے ہیں لیکن تاروں کے بغیر۔ ایٹمی بجلی گھروں کو معدنی خام مال فراہم کرنے والا یہ علاقہ آج بھی سورج غروب ہوتے ہی تاریکی میں ڈوب جاتا ہے۔
سکولوں کی چند خستہ حال عمارتیں تو ہیں لیکن پڑھانے کے لیئے کوئی استاد ادھر آنے کو تیار نہیں۔مقامی لوگ بنیادی طبی سہولتوں سے بھی محروم ہیں۔ زمانہ قدیم کی طرح انسان اور جانور آج بھی ایک ہی جوہڑ سے پانی پیتے ہیں۔
بغلچور بائیس سال تک یورینیم کے حصول کے حوالے سے پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے لیئے مرکزی اہمیت کی حامل جگہ رہی لیکن نہ تو تعلیمی اور نہ ہی صحت کی سہولتوں کے ضمن میں جوہری توانائی کے اس قومی ادارے کا کوئی کام یہاں نظر آتا ہے۔
ایک مقامی شخص غلام فرید لغاری کا کہنا تھا کہ ’اٹامک کے محکمے‘ نے سال ہا سال مقامی لوگوں سے کم اجرت پر محنت مزدوری کرائی لیکن سوائے چند چوکیداروں کے کسی کو بھی مستقل ملازمت نہ دی۔’یورینیم کی کانوں میں کام کرتے ہوئے ہمارے تین چار آدمی مختلف اوقات میں ہلاک بھی ہوئے لیکن ان کے لواحقین کو کوئی معاوضہ نہیں دیا گیا اور اگر ایک آدھ واقعہ میں کچھ دیا بھی گیا تو وہ بھی بہت کم تھا‘۔
![]() | |
| بجلی کے کھمبے تو ہیں پر بجلی کے تار نہیں ہیں |
بغلچور پاکستان کے ان علاقوں میں شامل ہے جن کے بارے ایشیائی ترقیاتی بینک کا کہنا ہے کہ وہاں کی اکثریتی آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے۔ غربت کا تو یہ عالم ہے کہ بغلچور اور رونگھن کے لوگ صرف معمولی ملازمتوں کے عوض جوہری فضلہ ڈمپ کرنے کے مسئلے پر خاموشی اختیار کرنے کو تیار تھے۔
اس ضمن میں مقامی لوگوں کی عرضداشت گذشتہ برس تین مارچ کو پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے مقامی حکام کے ساتھ ہونے والی میٹنگ میں اس وقت ڈیرہ غازی خان کے قبائلی علاقہ کے پولیٹیکل ایجنٹ سید امتیاز حسین شاہ نے پیش کی تھی۔
دوسری شرائط میں ڈمپ کیئے جانے والے مواد کے بارے تحریری ضمانت نامہ بھی ہے جس میں لکھا ہے کہ یہ انسانی و حیوانی زندگی اور ماحول کے لیئے نقصاندہ نہیں، اس کے باوجود اگر بعد میں مقامی آبادی پر کوئی برے اثرات آتے ہیں تو علاج و معالجہ کی ذمہ داری اٹامک انرجی کمیشن کی ہوگی، مقامی آبادی کا طبی ماہرین سے وقتاً فوقتاً معائنہ کرایا جائے اور ان افراد کو دوبارہ نوکریاں دی جائیں گی جنہوں نے دس سال یا اس سے زائد عرصہ تک اٹامک انرجی کمیشن کی ملازمت کی ہے۔ لیکن مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ان میں سے کسی بھی شرط پر عملدرآمد نہیں ہوا۔