Wednesday, 26 April, 2006, 11:09 GMT 16:09 PST
اعجاز مہر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام
چوبیس اپریل کی تپتی دوپہر کو بحرین کی بندر گاہ مینا سلمان پر لنگر انداز ہالینڈ کے جہاز کے ’ڈیک‘ پر سفید شامیانے تلے سفید وردیوں میں ملبوس امریکہ، پاکستان، ہالینڈ اور بحرین سمیت کئی ممالک کی بحری افواج کے اہلکار اور افسران جمع ہوئے۔
بحریہ کی روایت کے مطابق مخصوص سیٹی بجا کر سرکاری مہمانوں کی آمد اور استقبال کا سلسلہ ختم ہوا اور دنیا کی پچیس لاکھ مربع میل سمندری حدود کی حفاظت پر مامور امریکہ اور ان کی اتحادی افواج کے تین اہم ’ٹاسک فورسز‘ میں سے سب سے بڑے یعنی ’ٹاسک فورس 150‘ کی کمان پاکستان بحریہ کے ریئر ایڈمرل شاہد اقبال کے سپرد کی گئی۔
![]() | |
| پاکستان پہلا مسلمان ملک ہے جس اس فورس کی کمان دی گئی ہو |
امریکہ اور ان کی اتحادی افواج کے پینتالیس جہاز اور بیس ہزار فوجی پچیس لاکھ مربع میل سمندری حدود میں ہر وقت گشت کے لیے تیار رہتے ہیں اور ان افواج کی موجودگی کا مقصد کسی بھی ممکنہ دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنا، غیر قانونی اسلحہ اور منشیات کی نقل حمل اور ’پائریٹس‘ کو روکنا ہے۔
امریکہ اور اتحادی افواج نے اپنی کمانڈ کو تین بڑے اور سات ذیلی ٹاسک فورسز میں بانٹ رکھا ہے اور ان میں ٹاسک فورس150 کی ذمہ داری بیس لاکھ مربع میل سمندری حدود کی حفاظت کرنا ہے۔
ہر ٹاسک فورس کی چار چار ماہ بعد کمانڈ تبدیل ہوتی ہے اور سب سے بڑے ٹاسک فورس کی کمان اس بار پاکستان کو ملی ہے۔ اس ٹاسک فورس کی کمان سنبھالنے والے دراز قد والے ریئر ایڈمرل شاہد اقبال کو بحری آپریشنز کے شعبے میں وسیع تجربہ حاصل ہے۔
اس تقریب کی کوریج کے لیے امریکہ نے اسلام آباد سے صحافیوں کو بحرین پہنچانے اور واپس اسلام آباد لانے کے لیے اپنا فوجی ساز و سامان کے لیے استعمال ہونے والے ’سی 130‘ طیارہ فراہم کیا اور بحرین میں قیام کے دوران قیدیوں کو لے جانے والی گاڑی نما ایک بس ان کے لیے مخصوص کردی۔
اسلام آباد سے ساڑھے پانچ گھنٹے کی پرواز کے بعد جب بحرین کی ائر بیس پر اترے تو ’ساؤنڈ گارڈ‘ کے باوجود بھی کانوں سے کئی گھنٹے تک ’سی 130‘ کے شور کی گونج سنائی دیتی رہی۔
بحرین، بحیرہ فارس کا ایک چھوٹا مگر جغرافیائی اعتبار سے ایک اہم ملک ہے جس کی اراضی چھ سو پینسٹھ مربع میل اور آبادی سات لاکھ کے قریب ہے اور اس میں غیر بحرینی آبادی کی شرح سینتیس فیصد ہے۔ زیادہ تر آبادی مسلمانوں کی ہے جبکہ کُل آبادی کا نوفیصد حصہ عیسائی ہیں۔
![]() | |
| بحرین کا دارالحکومت مناما |
سعودی عرب کے مشرق میں واقع بحرین ’آف شور بینکنگ‘ کا بڑا مرکز بنتا جارہا ہے۔ سڑک کا رابطہ ہونے کی وجہ سے ہر ’ویک اینڈ‘ پر یہاں پچاس ہزار سے زائد سعودی باشندے آتے ہیں اور ان کی رہائش کے لیے ’فرنِشڈ اپارٹمینٹ‘ مقامی لوگوں کی آمدن کا ایک بڑا ذریعہ بتایا گیا۔
سالانہ ساڑھے چار ارب ڈالر آمدن اور ساڑھے تین ارب ڈالر اخراجات والے اس چھوٹے عرب ملک میں یورپ اور امریکہ کی طرز پر بڑے بڑے شاپنگ مال بنے ہوئے ہیں اور مہنگائی کے اعتبار سے اس ملک کو دنیا کے چند بڑے ممالک میں گنا جاسکتا ہے۔
بحرین میں امریکی افواج کی آزادانہ نقل و حمل سے ایسا لگا کہ ان کے لیے چند برس پہلے خود کو بحرین کے بادشاہ حماد بن عیسیٰ الخلیفہ نے خصوصی رعایت دے رکھی ہے۔
سڑکوں پر زیادہ ٹریفک سے یہ بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بیشتر لوگوں کے پاس اپنی گاڑیاں ہیں۔ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق سات لاکھ کی آبادی میں سے ساڑھے چھ لاکھ افراد موبائیل فون استعمال کرتے ہیں۔
بحرین میں منعقد کردہ اس تقریب کی کوریج میں امریکہ کی دلچسپی کے متعلق تو بظاہر ایسا لگا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کو سراہنا چاہتا ہے اور یہ تاثر دینا چاہتا ہے کہ وہ اس ملک پر خاصا اعتماد بھی کرتا ہے۔