Monday, 24 April, 2006, 11:14 GMT 16:14 PST
مبشر زیدی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کی عدالت عظمی نے بدلہ صلح کے تحت کمسن لڑکیوں کے رشتے دینے کی قدامت پسندانہ رسموں ونی اور سوارہ کو روکنے کے لیے ملک کے ہر ضلع میں ایک کمیٹی تشکیل دینے کے احکامات جاری کیے ہیں۔
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے یہ احکامات ونی اور سوارہ کی رسموں کے بارے میں پنجاب کے ضلع میانوالی کی ونی قرار دی جانے والی دو لڑکیوں اور صوبہ سرحد کی سماجی کارکن ثمر مناللہ کی درخواستوں کی سماعت کے بعد جاری کیے۔
آج ان درخواستوں کی سماعت کے آغاز میں ثمر مناللہ کے وکیل منصور علی نے عدالت کو بتایا کہ عدالت کے طرف سے اس معاملے کا نوٹس لیے جانے کے بعد سے ان واقعات میں کمی آئی ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ ابھی بھی کئی علاقوں میں ماں کے پیٹ میں موجود بچوں کو ونی کی بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس نے صوبہ پنجاب کے ضلع پاکپتن کی تحصیل عارف والا کی ایک خاتون کی درخواست پڑھی جس میں کہا گیا تھا کہ اس کے ساتھ اس کے تایا زاد بھائی نے جنسی زیادتی کی اور اس کے بعد پنچایت کے حکم پر اس کا نکاح ملزم کے بھائی کے ساتھ جبکہ ملزم کی تین سالہ لڑکی کو اس کے کمسن بھائی کے ساتھ ونی کے طور پر دے دیا گیا۔
سائلہ قریشاں بی بی کے مطابق جب انہوں نے پنچایت کا فیصلہ ماننے سے انکار کیا تو انہوں نے ان کاگھر مسمار کرنے کی دھمکی دی۔
![]() | |
| سپریم کورٹ نے تقریباً چار ماہ قبل معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے کارروائی کا اعلان کیا تھا |
انہوں نے ہر ضلع میں مقامی ضلعی بار ایسوسی ایشن کے صدر اور جنرل سکریٹری پر مشتمل کمیٹی بنانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ یہ کمیٹیاں اپنے اپنے اضلاع میں ونی اور سوارہ جیسی رسومات کے خلاف شکایات جمع کریں گی اور ان پر عملدرآمد کے لیے سیشن ججوں سے رجوع کریں گی۔ اگر پولیس اس کمیٹی کی شکایت پر ایکشن نہیں لیتی تو یہ کمیٹی سیشن جج کے توسط سے اعلی عدالتوں میں ان واقعات کی شکایات درج کروائیں گی۔
سپریم کورٹ نے تمام ضلعی پولیس افسران کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ ان کمیٹیوں کے ساتھ تعاون کریں تاکہ معاشرے سے ان قدامت پسند غیر انسانی رسومات کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔
عدالت نے ان درخواستوں کی سماعت اگلے ماہ کی پندرہ تاریخ تک مؤخر کر دی ہے۔