Monday, 24 April, 2006, 12:07 GMT 17:07 PST
مبشر زیدی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کی عدالت عظمی نے پیر کو فوجی عدالت سے سزائے موت کے خلاف چار افراد کی اپیلیں باقاعدہ سماعت کیلیے منظور کر لی ہیں۔
سپریم کورٹ کے جسٹس فقیر محمد کھوکھر اور جسٹس جاوید بٹر پر مشتمل دو رکنی بنچ نے ان درخواستوں کی جلد سماعت کے لیے یہ اپیلیں گزشتہ اپیلوں کی طرح چیف جسٹس کے دفتر بھی بھجوانےکا حکم جاری کیا ہے۔
صدر مشرف پر سن دو ہزار تین میں دو ناکام قاتلانہ حملوں میں ملوث نو افراد کو سزائے موت سنائی گئی تھی جن میں سے چار افراد زبیر احمد، راشد قریشی، غلام سرور بھٹی اور اخلاص احمد عرف روسی کی درخواستوں کو آج عدالت عظمی نے سماعت کے لیے منظور کر لیا جبکہ مشتاق احمد اور ائر فورس کے چیف ٹیکنیشن خالد محمود، کورپورل ٹیکنیشن نوازش علی، جونیئر ٹیکنیشن نیاز محمداور جونیئر ٹیکنیشن عدنان رشید کی درخواستیں پہلے ہی سماعت کے لیے منظور کی جا چکی ہیں۔
ان افراد کو سن دو ہزار چار میں ہونے والے کورٹ مارشل کے بعد سزائے موت سنائی گئی تھی۔ائرفورس کے دو اور اہکاروں سینیئر ٹیکنیشن کرم دین اور جونیئر ٹیکنیشن نصراللہ کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ جب کہ چار سویلین افراد کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
ان افراد کی اپیلوں کو لاہور ہائی کورٹ نے اس بنیاد پر مسترد کر دیا تھا کہ فوجی عدالت کی طرف سے دی گئی سزاؤں کو سویلین عدالتوں میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم عدالت عظمی نے ان اپیلوں کو سماعت کے لیے منظور کر لیا ہے۔
ان افراد کی درخواستوں میں ملزمان کے وکیل کرنل ریٹائرڈ محمد اکرم نے موقف اختیار کیا ہے کہ سویلین یا غیر فوجی افراد کو کورٹ مارشل کے تحت سزائے
![]() | |
| صدر مشرف پر 2003 میں قاتلانہ حملہ ہوا تھا |
اب اس کیس کی باقائدہ سماعت کی تاریخ کا تعین چیف جسٹس کا دفتر کرے گا۔
ان ملزمان کے وکلاء کا کہنا ہے کہ فوجی عدالت نے انہیں ان افراد کو سنائی جانے والی سزا کے فیصلے کی کاپی فراہم نہیں کی۔ تاہم حکومت کا موقف ہے کہ ان وکلا کو اس فیصلے کی کاپی دکھائی گئی تھی اور اس فیصلے کی خفیہ نوعیت کے سبب یہ کاپی وکلاء کو نہیں دی جا سکتی۔