Saturday, 22 April, 2006, 10:44 GMT 15:44 PST
اعجاز مہر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان میں زلزلے سے بحالی اور تعمیر نو کے بارے میں قائم ادارے ’ای آر آر اے‘ کے نائب چیئرمین میجر جنرل ندیم احمد نے انکشاف کیا ہے کہ کشمیر اور صوبہ سرحد کے تیس ہزار کے قریب متاثرین کو ابتدائی امداد کے لیے دیے گئے چیک باؤنس ہوئے ہیں۔ ابتدائی طور پر ہر متاثرہ خاندان کو پچیس ہزار روپے کا چیک دیا گیا تھا جس میں سے تیس ہزار چیک کیش نہیں ہوئے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ تعمیر نو کے مرحلے میں کئی افراد کو رقوم نہ ملنے اور چیک کیش نہ ہونے کی شکایات ہیں تو انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ تعمیر نو سے متعلق نہیں بلکہ ابتدائی طور پر دی گئی امداد کا ہے اور تیس ہزار کے قریب افراد کے چیک بینکوں میں رقم نہ ہونے کی وجہ سے کیش نہیں ہوسکے۔
انہوں نے کہا ’وزیراعظم کو سمری بھجوادی گئی ہے کہ ایک اعشاریہ سات ارب روپے کشمیر میں اور ایک ارب روپے کے قریب صوبہ سرحد کے متاثرین کو ابھی ابتدائی امداد کی مد میں دینے ہیں‘۔
انہوں نے کہا کہ ابتدائی امداد کے چیک تقسیم کرنے کا کام فیڈرل ریلیف کمیشن نے کیا تھا۔
واضح رہے کہ حکومت فیڈرل ریلیف کمیشن نامی ادارے کو یہ کہہ کر ختم کرچکی ہے کہ اس نے اپنا تمام کام احسن طریقے سے سرانجام دے دیا ہے۔ اس کی جگہ آی آر آر اے میں ایک ریلیف سیل قائم ہے جو ان معاملات کی بھال کر رہا ہے۔
گزشتہ کئی ماہ سے سخت سردیوں کے دوران متاثرین شکایات کرتے رہے کہ انہیں جاری کردہ چیک کیش نہیں ہورہے اور وہ بینکوں میں دھکے کھا رہے ہیں اور بینک والے کہتے ہیں کہ ان کے پاس رقم ہی نہیں ہے۔
ایک سوال پر میجر جنرل ندیم نے بتایا کہ تعمیر نو کے مرحلے میں مکان تعمیر کرنے کے لیے تازہ سروے کی روشنی میں فہرستیں آنا شروع ہوگئی ہیں اور ایک دو روز میں متعلقہ افراد کے لیے قسط کی رقم ان کے بینک کھاتوں میں منتقل ہونے کا کام شروع ہوجائے گا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ آئندہ جون تک مکان بنانے کے لیے متاثرہ افراد کو ستائیس ارب روپے جبکہ تعلیمی اداروں اور ہسپتالوں کی تعمیر کے لیے دس ارب روپے جاری کردیں گے۔
واضح رہے کہ پاکستان میں قانون کے مطابق چیک باؤنس ہونے پر قید اور جرمانے کی سزا ہے۔