Friday, 21 April, 2006, 12:06 GMT 17:06 PST
مبشر زیدی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار بری فوج میں طبی شعبے کے علاوہ کسی دوسرے شعبے میں تیس خواتین کو بھرتی کیا جائے گا۔
پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان کے مطابق ان تیس خواتین کو سگنلز، تعلقات عامہ، کمپیوٹر سیکشن، تعلیمی اور قانونی شعبوں میں بحیثیت کپتان اور میجر تعینات کیا جائے گا۔ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ فوج میں خواتین کی تعیناتی کا عمل بتدریج بڑھایا جائے گا۔
اس سے قبل گزشتہ ماہ پاکستان کی فضائیہ میں چار خواتین کو تربیت کے بعد بحیثیت لڑاکا پائلٹ بھرتی کیا گیا تھا۔
پاکستان کی فوج میں خواتین کی بھرتی کا عمل صرف طبی شعبے تک ہی محدود تھا۔اس وقت پاکستان کی فوج میں تقریبا تین ہزار خواتین بحیثیت ڈاکٹر اور نرسوں کے کام کر رہی ہیں۔ان میں سے تئیس سو نرسیں ہیں جبکہ چھ سو پچاس سے زائد ڈاکٹر ہیں۔
اسلام آباد میں مقامی اخبارات کے نمائندگان سے پریس کانفرنس کے دوران فوج کے ترجمان نے کہا کہ بری فوج میں خواتین کی بھرتی کا عمل اگلے ماہ سے شروع ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ ان خواتین کے لیے بھرتی کے امتحان آئن لائن لیے جائیں گے اور امتحان میں کامیاب ہونے والی خواتین کے لیے خصوصی فوجی تربیت کا کورس جون میں ہو گا۔ان خواتین کی بھرتی کے بارے میں اتوار کے دن اخبارات میں اشتہارات دئیے جائیں گے۔
![]() | |
| خواتین نےاس سےقبل ائیر فورس میں شمولیت اختیار کی ہے |
ترجمان نے پریس کانفرنس میں یہ بھی بتایا کہ حال ہی میں فوج کی ایک ڈاکٹر شاہدہ بادشاہ کو میجر جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی ہے جبکہ فوج میں اس وقت تیرہ خواتین بریگیڈئر، چھبیس کرنل اور اڑتیس لیفٹیننٹ کرنل کے
عہدوں پر کام کر رہی ہیں۔
پاکستان کی فوج میں احمدی فرقے اور غیر مسلموں کی بھرتی کے حوالے سے ترجمان کا کہنا تھا کہ اس پر کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں ہے اور پاکستان
کی بری فوج میں اس وقت ڈھائی سو عیسائی مذہب سے تعلق رکھنے والے افسر کام کررہے ہیں جبکہ میڈیکل کور میں کئی ہندو ڈاکٹر بھی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ حال ہی میں پاکستانی فوج میں ایک سکھ نوجوان کی بطور کیڈٹ بھرتی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی افواج میں ترقی کا پیمانہ مذہب نہیں بلکہ کارکردگی اور میرٹ ہے۔