http://bbc.com.im/urdu/

ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

باجوڑ: السوری کی ہلاکت کی تصدیق

پاکستان کے وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے تصدیق کی ہے کہ جمعرات کو قبائلی علاقے باجوڑ میں ہلاک ہونے والا شخص القاعدہ کا دھماکہ خیز مواد کا ماہر ابو مروان السوری تھا۔

یہ بات انہوں نے پشاور میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کی۔

وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے مختصر بات کرتے ہوئے صرف اس بات کی تصدیق کی کہ باجوڑ میں ہلاک ہونے والا شخص القاعدہ کے ابو مروان السوری ہی تھے۔ انہوں نے اسے دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں ایک اہم کامیابی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اڑتیس سالہ ابو مروان دھماکہ خیز مواد کے بموں میں استعمال کے ماہر تھے۔

باجوڑ: مشتبہ غیر ملکی ہلاک

آفتاب شیرپاؤ نے ان اطلاعات کو غلط قرار دیا کہ ابو مروان نے چوکی پر روکے جانے کے بعد خود کو گولی ماری تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ لیویز پولیس کی گولی سے ہلاک ہوئے۔

اس سے قبل ابو مروان کی لاش کو شناخت کے لئے آج باجوڑ کے صدر مقام خار سے پشاور لایا گیا تھا۔ باجوڑ ایجنسی میں یہ واقعہ ایک ایسے وقت پیش آیا ہے جب اس علاقے سے ملحق افغانستان کے کنڑ اور نورستان صوبوں میں امریکی فوجی القاعدہ اور طالبان کے خلاف ایک بڑی کارروائی کر رہے ہیں۔

پاکستان نے پہلے ہی اس علاقے میں سرحد کی نگرانی مزید سخت کر دی تھی تاکہ القاعدہ عناصر سرحد پار نہ کرنے پائیں۔

خیال ہے کہ اس سے قبل باجوڑ ایجنسی میں اس سال جنوری میں ڈمہ ڈولہ گاؤں میں تین مکانات پر امریکی بمباری کا ہدف بھی القاعدہ کے دوسرے اہم رہنما ایمن الظواہری کے علاوہ ابو مروان تھے۔ اس حملے میں تیرہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اس سے قبل ذارئع ابلاغ میں میران شاہ کے قریب ایک کارروائی میں القاعدہ کے ایک اور اہم رہنما عبدالرحمان المہاجر کی ہلاکت کی بھی افواہیں گردش کرتی رہیں لیکن آج بی بی سی سے بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ آفتاب شیرپاؤ نے اس کی تصدیق یا تردید کرنے سے انکار کیا۔