Friday, 21 April, 2006, 08:36 GMT 13:36 PST
اعجاز مہر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں عید میلاد النبی کے جلسے میں ہونے والے خود کش بم حملے کو گیارہ روز ہوچلے ہیں لیکن تفتیش کرنے والی مختلف ایجنسیوں کی تحقیقات میں تاحال کوئی بڑا بریک تھرو سامنے نہیں آیا ہے۔
انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ نشتر پارک کے اس خود کش حملے کے بعد ملنے والی ایک غیر ختنہ شدہ لاش کی تصدیق نے اس بڑے سانحے کی تفتیش کا رخ ہی موڑ دیا ہے۔
وفاقی سیکریٹری داخلہ سید کمال شاہ اور ’فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی‘ یعنی ’ایف آئی اے‘ کے سربراہ طارق پرویز نے بدھ کو کراچی میں تحقیقات کرنے والے اداروں سے بات چیت کی اور نشتر پارک کا معائنہ بھی کیا۔
سیکریٹری داخلہ تو واپس اسلام آباد پہنچ گئے ہیں لیکن طارق پرویز کراچی میں تحقیقات کرنے والوں سے مشاورت میں مصروف رہے۔ رابطہ کرنے کے باوجود بھی دونوں افسران سے بات نہیں ہوپائی۔
واقعہ نشتر پارک، جس میں پچاس کے قریب افراد ہلاک اور نوے کے قریب زخمی ہوئے تھے اس بارے میں انٹیلی جنس حکام نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ابتدا میں شک تھا کہ غیرختنہ شدہ نوجوان ممکنہ حملہ آور ہو۔
گیارہ اپریل کے اس حملے کے چند روز بعد جب وزیراعظم شوکت عزیز کراچی گئے تو تفتیش کاروں نے انہیں غیر ختنہ شدہ لاش ملنے اور اس بنا پر بیرونی ہاتھ کے ملوث ہونے کے بارے میں اپنے شبہات کا اظہار کیا۔
![]() | |
| خودکش حملے میں ہلاک ہونے والوں کی نماز جنازہ |
وہاں موجود میڈیا سے قربت رکھنے والے حکمران مسلم لیگ کے رہنماء نے بعد میں صحافیوں کے ایک گروپ کو بتایا کہ جب وزیراعظم شوکت عزیز نے غیر ختنہ شدہ لاش کا ذکر کرتے ہوئے تفتیش کاروں کی معلومات کی بنا پر بیرونی ملک کے ملوث ہونے کا شبہہ ظاہر کیا تو صدر نے وزیر اعظم سے کہا کہ غیر ختنہ شدہ لاش کی بنا پر اندازہ لگانا درست نہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ اس بارے میں ٹھوس حقائق سامنے لائے جائیں۔
سرکردہ مسلم لیگی رہنما کی صحافیوں سے بات چیت سے یہ تاثر ملا کہ سیکورٹی ایجنسیز بیرونی ممالک پر معاملہ ڈال کر اپنے فرائص جلد پورے کرنا چاہتی ہیں لیکن صدر مملکت نے ٹھوس ثبوت کے سوا ان کا موقف مسترد کردیا۔
بظاہر ایسا لگ رہ تھا کہ متعلقہ مسلم لیگی رہنما خبر بھی چھپوانا چاہتے تھے اور صدرِ مملکت کو بھی سراہنا چاہتے تھے۔
لیکن جب کراچی کے بفرزون کے رہائشی عابد شاہ نے غیر ختنہ شدہ نوجوان کی لاش پہچانی اور کہا کہ وہ اسد شاہ نامی سولہ سالہ نوجوان ان کے بھتیجے ہیں اور ’تھیلیسیمیا‘ نامی بیماری میں مبتلا ہونے کی جہ سے ڈاکٹروں کی ہدایت پر ان کا ختنہ نہیں ہوا تو تفتیش کاروں کو ایک بڑا جھٹکا لگا۔ ڈاکٹر کہتے ہیں کہ اس بیماری میں خون نہیں رُکتا۔
اس واقعے کی تحقیقات کی تان کہاں ٹوٹتی ہے اور ملزمان کی نشاندہی کب ہوگی اس بارے میں فی الوقت کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا۔
![]() | |
| خودکش حملے میں پچاس افراد ہلاک ہوئےتھے |
صدر کے اس اعلان سے اب یہ امید بندھی ہے کہ شاید نشتر پارک کے حملے کے ملزمان کا سراغ مل پائے لیکن اس کا انحصار بھی اس بات پر ہے کہ عوام اور میڈیا کب تک اس معاملے کا پیچھا کرتے ہیں۔
کچھ مبصرین کی رائے ہے کہ اگر ماضی کی طرح اس بار بھی عوام کچھ عرصے بعد بھول گئے تو واقعہ نشتر پارک تحقیقاتی ایجنسیوں کی زنگ آلود الماریوں میں سرخ کپڑوں میں لپٹی، مٹی زدہ فائلوں میں ایک اور اضافہ ہوگا۔