Thursday, 20 April, 2006, 14:20 GMT 19:20 PST
دلاور خان وزیر
ڈیرہ اسماعیل خان
شمالی وزیرستان میں جمعرات کی صبح نامعلوم افراد نے مہمند رائفلز کے ایک قافلے پر اس وقت حملہ کردیا جب وہ میران شاہ سے رزمک کے لیے ایک پہاڑی سلسلے سے گزر رہا تھا۔
سرکاری اہلکاروں کے مطابق جوابی کارروائی میں چھ مزاحمت کار ہلاک ہو گئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق اس حملے میں سات فوجی ہلاک اور چھبیس شدید زخمی ہوگئے ہیں۔علاقے میں کشیدگی ہے اور فوج کے گن شِپ ہیلی کاپٹر فضا میں پرواز کررہے ہیں۔
جمعرات کی صبح سات بجے کے قریب شمالی وزیرستان میں ہی میرعلی کے مقام پر سکاؤٹس قلعے پر کئی راکٹ داغے گئے جس کے بعد فوج نے جوابی کارروائی کی۔اس میں کسی کے ہلاک ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔
شمالی وزیرستان کے ہیڈکوارٹر میران شاہ میں فوجی قلعہ پر بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب گیارہ بجے کے قریب تین راکٹ داغے گئے جو قلعے کے قرب و جوار میں گرے۔
اطلاعات کے مطابق فوج نے جوائی کارروائی کی اور دو گھنٹے تک مسلسل مشکوک ٹھکانوں پر توپیں اور مارٹر کے گولے برساتی رہی۔ تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔
اس کے علاوہ بدھ کی شام وزیرستان میں ہی ٹل اسکاؤٹس فورس کی ایک گاڑی میرعلی کے علاقے میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں تباہ ہوگئی۔اس میں ٹل اسکاؤٹس کے پانچ جوان بھی زخمی ہوگئے جن میں سے دو کی حالت شدید بتائی گئی ہے۔
دھماکہ شام کے چھ بجے اس وقت ہوا جب ٹل اسکاؤٹس فورس کا ایک قافلہ تینوا میں موجود اسکاؤٹس فورس کے لیے خوراک لے جارہا تھا۔ زخمیوں کو ہسپتال میں داخل کرادیا گیا ہے۔
شمالی اور جنوبی وزیرستان میں حالیہ مہینوں میں مشتبہ طالبان اور القاعدہ کی جانب سے فوجی ٹھکانوں کو نشایا بنایا جاتا رہا ہے اور فوجی کارروائی میں بھی بہت سے لوگ مارے گئے ہیں۔