http://bbc.com.im/urdu/

Wednesday, 19 April, 2006, 23:46 GMT 04:46 PST

علی سلمان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام لاہور

کالعدم تنظیم سپاہ صحابہ کے رہنما رہا

پاکستان میں کالعدم قرار دی گئی مذہبی شدت پسند تنظیم سپاہ صحابہ کے سربراہ مولانا احمد لدھیانوی کو چھ ماہ کی قید کے بعد فیصل آباد کی جیل سے رہا کر دیا گیا ہے۔ رہائی کے بعد انہوں نے ملک میں فرقہ وارانہ امن کے لیے ایک ٹریبونل کے قیام کی پیشکش کی ہے۔

مولانا احمد لدھیانوی کو پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں اس وقت حراست میں لے لیا تھا جب وہ زلزلہ متاثرین میں کئی ٹرک امدادی سامان دے کر لوٹ رہے تھے۔ اس کےبعد انہیں تین تین ماہ کے لیے دوبار لگاتار نظر بند رکھا گیا۔

بدھ کو جیل سے آزاد ہونے کےبعد مولانا احمد لدھیانوی اپنے آبائی شہر کمالیہ پہنچ گئےہیں۔ رہائی کےبعد انہوں نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ امدادی سامان کی تقسیم کے بعد پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں زلزلے میں ہلاک ہونے والے سپاہ صحابہ کے کارکنوں کے ورثا کو ملنے جارہے تھے کہ راستہ بھول گئے اور اس دوران انہیں فوجی اہلکاروں نے پکڑا اور پھر ایک بریگیڈئر نے اپنے گھر بلاکر پولیس کےحوالے کردیا۔

کالعدم تنظیم سپاہ صحابہ دیوبندی سنی مسلمانوں کی ایک ایسی تنظیم ہے جس کے تین سربراہوں حق نواز جھنگوی، مولانا اعظم طارق اور ضیاءالرحمان فاروقی سمیت ایک سو سے قریب رہنما اور کارکن ہلاک ہوچکے ہیں اور ان کے قتل کا الزام مخالف شیعہ فرقہ کے افراد پر لگایا گیا۔

شیعہ فرقہ سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں افراد کے قتل کا الزام کالعدم سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی پر عائد کیا جاتا ہے۔

لشکر جھنگوی کو حکام سپاہ صحابہ کی ذیلی تنظیم قرار دیتے ہیں البتہ سپاہ صحابہ نے ہمشیہ اس کی تردید کی ہے۔

کراچی میں سنی مسلمانوں کے جلسے میں ہونےوالے حالیہ دھماکے کو بھی فرقہ وارانہ سلسلے کی کڑی قرار دیا جارہاہے۔ مولانا لدھیانوی نے کہا کہ ’وہ تشدد کے خلاف ہیں اور ان کے خیال میں دہشت گردی اور قتل سے کبھی مسائل حل نہیں ہوئے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’پہلے بھی ان کی جماعت نے تشدد کے خاتمے کے لیے آئینی کوشش کی تھی اور قومی اسمبلی میں ناموس صحابہ بل پیش کیا گیا اور اب وہ ایک امن ٹریبونل بنانے کی تجویز پیش کرتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’نظر بندیاں اورگرفتاریاں تشدد کا حل نہیں ہے۔ اس کی بجائے ایک ایسا ٹریبونل بنایا جائے جس میں فریقین یعنی شیعہ اور سنی ہوں، اعلی عدالتوں کے جج اور وکلاء ہوں، اخبارات کے مدیران اور تمام مکتبہ فکر کے جید علماء ہوں اور یہ سب بیٹھ کر ملک سے فرقہ وارایت کے خاتمے کےلیے جو فیصلہ کریں گے وہی امن قائم کرنے کی بنیاد ہوگی۔‘