Wednesday, 19 April, 2006, 12:00 GMT 17:00 PST
رفعت اللہ اورکزئی
لندن
افغان سرحد کے ساتھ واقع شمالی اور جنوبی وزیرستان کی قبائلی ایجنسیوں میں پرتشدد کارروائیاں مبینہ دہشت گردی کے خلاف امریکہ کی جنگ کے بعد سے ہی شروع ہوگئی تھیں۔ تاہم ان میں تیزی اس وقت آئی جب مارچ دوہزار چار میں القاعدہ کے ڈاکٹر ایمن الزواہری کی علاقے میں موجودگی کی قیاس آرائیوں پر پاکستانی سکیورٹی فورسز نے ایک بڑا آپریشن شروع کیا۔
ان کاروائیوں کے دوران عام شہریوں، مبینہ شدت پسندوں اور سکیورٹی اہلکاروں کے ہلاکت کے بارے میں فریقین کی جانب سے اکثر متضاد دعوے سامنے آتے رہے اور تقریباً ہربار ہلاک ہونے والوں کی شناخت اور تعداد متنازعہ رہی۔ اس کا سب سے بڑا سبب ان قبائیلی علاقوں تک صحافیوں کی رسائی نہ ہوناہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ٹرائبل یونین آف جرنلسٹس کے صدر سیلاب محسود نے بتایا کہ جب سے امریکی افواج اور ان کے اتحادیوں نے افغانستان پر حملہ کیا ہے اس کے بعد قبائلی علاقوں میں صحافت کی صورتحال نہایت پچیدہ ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب صورتحال یہ ہے کہ صحافیوں اور ان کے گھروں پر حملے ہوتے ہیں، شمالی اور جنوبی وزیرستان میں رہائش پذیر تمام اخبار نویس اپنے اپنے گھروں اور علاقوں کو چھوڑ کر بندوبستی علاقوں جیسے بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان ، پشاور، کراچی اور دیگر شہروں کو چلے گئے ہیں۔
سیلاب محسود کا کہنا ہے کہ اگر کسی خبر سے پولیٹیکل انتظامیہ ناراض ہوجاتی ہے تو اخبار نویسوں کو قبائلی علاقوں میں رائج قانون ایف سی آر کی شق چالیس کے تحت قید کر دیا جاتا ہے۔
![]() | |
| وزیرستان آپریشن |
کشیدگی کی اس فضا میں مقامی صحافیوں کو دونوں جانب سے یعنی سکیورٹی فورسز اور مزاحمت کاروں کی طرف سے دباؤ کا سامنا رہا بعض حالات میں دھمکی اور لالچ سے کام لیاگیا اور جب یہ کارگر نہ ہوئے تو صحافیوں پر حملہ کرنے سے گریز نہیں کیاگیا۔ فروری دو ہزار پانچ میں وانا کے نزدیک صحافیوں کی ایک گاڑی پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کردی۔ اس حملے میں بی بی سی کے نامہ نگار دلاور خان وزیر بال بال بچے تھے۔
واقعے کی تفصلات بیان کرتے ہوئے دلاورخان نے بتایا کہ وانا کے نزدیک واپڈا کالونی کے پاس ایک نامعلوم سفید رنگ کی کار میں سوار مسلح افراد نے فائرنگ کردی جس سے دو صحافی اللہ نور وزیر اور امیرنواب خان موقع پر ہلاک ہوگئے جبکہ ایک اور صحافی انورشاکر زخمی ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ بعد میں ایک غیر معروف تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرلی تھی۔
صحافیوں کی ہلاکت کے اس واقعے کے بعد سے وزیرستان میں مقامی اخباری نمائندوں کی نقل و حرکت میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے۔ کچھ صحافیوں نے تو یہ پیشہ ہی چھوڑ دیا جبکہ ان میں دو وہ بھی شامل ہیں جنہوں نے پولیٹکل انتظامیہ کے مبینہ دباؤ میں آکر صحافت کو خیرآباد کہہ دیا اور سرکاری نوکری اختیار کرلی۔
وانا شمالی وزیرستان میں مزاحمت کاروں کے ایک رہنما حاجی عمر نے بتایا کہ صحافی تو ان کے دوست ہیں۔’ہم نے کبھی صحافیوں کی نقل و حرکت پر پابندی نہیں لگائی۔ وہ بازار آتے ہیں ہم سے ملتے ہیں۔یہ تو حکومت ہے جو ان پر پابندیاں لگاتی ہے۔‘
ایک غیر ملکی فوٹو ایجنسی کےلیے کام کرنے والے مقامی صحافی حیات اللہ خان وزیر گزشتہ چار ماہ سے لاپتہ ہیں۔ کہاجاتا ہے کہ انہوں نے اس میزائل کے ٹکڑوں کی تصویر بنائی تھی جس سے القاعدہ کے ایک مبینہ رہنما ابو حمزہ ربیعہ کو دسمبر دو ہزار پانچ میں شمالی وزیرستان میں نشانہ بنایاگیا جبکہ صدرپاکستان پرویزمشرف کا دعوی تھا کہ ربعیہ اپنے گھر میں بم بناتے ہوئے دھماکے میں ہلاک ہوئے تھے۔
حیات اللہ کے بھائی احسان اللہ نے حال ہی میں صحافیوں کے حقوق کےلیے کام کرنے والے ایک عالمی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس یا سی پی جے کے ساتھ ایک انٹرویو میں دعوی کیا کہ ان کے بھائی کو حکومت نے امریکیوں کے حوالے کیا ہے۔
پشاور میں ایک انگریزی اخبار ’دی پوسٹ‘ کےلیے کام کرنے والے صحافی عارف یوسفزئی نے بی بی سی کو بتایا کہ جب حیات اللہ کے گمشدگی کا معاملہ انہوں نے پشاور کے دورے پر آئے ہوئے وزیراعظم شوکت عزیز کے نوٹس میں لائے تو اس کے بعد ان کو حساس اداروں کی جانب سے خطرناک نتائج کی دھمکی دی گئی اور ان کے موبائل فون پر کئی دن تک گمنام اور دھمکی آمیز کالیں آتی رہی۔
جب سے وزیرستان میں کشیدگی کی فضا قائم ہوئی ہے تو اس کے بعد سے حکام بار بار یہ کہتے رہے ہیں کہ یہ ایک معمولی شورش ہے جو بہت جلد ختم ہو جائے گی۔ حکومت اس معمولی شورش پر قابو پانے کےلیے جنگی طیارے ، گن شپ ہیلی کاپٹر، لانگ رینج میزائل اور بھاری توپ خانے کا استعمال کرتی رہی ہے۔
وزیرستان میں کتنی ہلاکتیں ہوئیں، کتنے عام شہری مارے گئے؟ اس سلسلے میں اخبارات، رسائل اور ذرائع ابلاغ کے دیگر اداروں کو صرف سرکاری ذرائع پر انحصارکرتے رہے ہیں اور ان کے پاس آزادانہ ذرائع سے مختلف واقعات اور حکومتی دعوؤں کی تصدیق ممکن نہیں تھی۔ اس صورتحال میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا سرکاری سطح پر جو کچھ ذرائع ابلاغ کو بتایا جاتا ہے وہی حقیقت ہے؟