Saturday, 15 April, 2006, 21:57 GMT 02:57 PST
عزیزاللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ
بلوچستان میں سبی ہرنائی سیکشن پر نامعلوم افراد اور نیم فوجی دستے کے اہلکاروں کے مابین جھڑپ ہوئی ہے لیکن کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
دوسری طرف جمہوری وطن پارٹی کے سیکرٹری اطلاعات امان اللہ کنرانی نے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت ڈیرہ بگٹی میں قبائل کو آپس میں لڑانا چاہتی ہے۔
ریلوے پولیس کے اہلکار نے بتایا ہے کہ کل شام کے وقت سبی ہرنائی سیکشن پر ناڑی کے مقام پر مسلح قبائل اور نیم فوجی دستے کے اہلکاروں کے مابین شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ یاد رہے دو روز پہلے اسی سیکشن پر تندوری کے مقام پر ایک ریلوے پل کو دھماکے سے اڑا دیا گیا تھا۔
دریں اثنا ایک نا معلوم شخص نے ٹیلیفون پر اپنا نام میرک بلوچ بتایا ہے اور کہا ہے کہ کہ وہ تندوری کے مقام پر ریلوے پل کو دھماکے سے اڑانے کی ذمہ داری ممنوعہ تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کی طرف سے قبول کرتا ہے۔ میرک بلوچ نے کہا ہے کہ وہ بلوچستان کے زمینداروں اور عوام کی خاطر پینتالیس دن تک بجلی کے کھمبوں پر حملے نہیں کریں گے۔
اس کے علاوہ کل شام جمہوری وطن پارٹی کے سیکرٹری اطلاعات امان اللہ کنرانی ایک اخباری کانفرنس میں میں کہا ہے کہ حکومت ڈیرہ بگٹی میں مختلف قبائل کو اسلحہ فراہم کرکے خانہ جنگی کی صورتحال پیدا کر رہی ہے۔
بلوچستان میں جاری مبینہ فوجی کارروائی کے خلاف جمعے کو صوبہ بھر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی۔
جمہوری وطن پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی، پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی نیشنل پارٹی اور پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے ہڑتال کی کال دی گئی تھی۔ کوئٹہ سمیت صوبے کے شمالی اور جنوبی علاقوں میں دکانیں اور کاروباری مراکز بند رہے ۔
ہڑتال کے موقع پر کوئٹہ میں تیل گودام کے علاقے میں ایک دھماکہ ہوا ہے اور ادھر خضدار میں ضلعی رابطہ افسر کی رہائش گاہ کے قریب دھماکہ ہوا ہے لیکن کوئی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
بلوچستان میں مبینہ فوجی کارروائی سترہ دسمبر سے شروع کی گئی جس کے بعد سے صوبے بھر میں حالات کشیدہ ہو گئے ہیں۔ گزشتہ دنوں گورنر بلوچستان اویس احمد غنی نے کہا تھا کہ اگر نواب اکبر بگٹی ہتھیار ڈال دیں تو مذاکرات کیے جاسکتے ہیں۔