Friday, 14 April, 2006, 17:23 GMT 22:23 PST
ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کراچی
کراچی میں نشتر پارک بم دھماکے کا مقدمہ نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کر لیا گیا ہے جس سے سنی تحریک نے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔
منگل کے روز ہونے والے بم دھماکے میں سنی تریک کے مرکزی رہنما عباس قادری، اکرم قادری، افتخار بھٹی، ڈاکٹر قدیر، جی یو پی کے حافظ تقی، حنیف بلو سمیت سینتالیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
سنی تحریک کی نگران کمیٹی کے رکن عبدالرحمان نے بی بی سی کو بتایا کہ اس مقدمے سے ان کی جماعت کا کوئی تعلق نہیں۔ ان کے مطابق نہ ہم کسی کے پاس گئے ہیں اور نہ ہی ہم سے کسی نے رابطہ کیا ہے۔
جماعت اہل سنت کے سربراہ شاہ تراب الحق نے بی بی سی کو بتایا کہ جس جلسے میں یہ دھماکہ ہوا اس کا انتظام ان کی جماعت نے کیا تھا جبکہ جلسے اور جلوس کا اجازت نامہ بھی انہیں کے نام جاری کیا گیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ چار روز گزر جانے کے بعد بھی کسی نے مقدمہ درج نہیں کروایا، ان سے ڈی آئی جی نے رابطہ کیا جس کے بعد ان کی جماعت کی جانب سے نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ دائر کیا گیا۔
شاہ تراب الحق نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ان کے سنی تحریک سے کوئی اختلافات نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ درست ہے کہ مقدمہ دائر کرنے سے پہلے انہوں نے سنی تحریک کے رہنماؤں سے کوئی رابطہ نہیں کیا تھا کیونکہ وہ مصروف تھے۔
انہوں نے کہا کہ سنی تحریک کے ذمہ داران حکومتی حکام کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کی باتیں کر رہے ہیں جو ممکن نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت کے لوگ بھی ’شہید‘ ہوئے ہیں اگر سنی تحریک کے ذمہ داران چاہیں تو اپنی علیحدہ ایف آئی آر دائر کراسکتے ہیں۔