http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 13 April, 2006, 01:22 GMT 06:22 PST

عدنان عادل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

کراچی دھماکہ، آج لاہور بند رہے گا

منگل کو کراچی میں عید میلاد النبی کے اجتماع میں ہونے والے دھماکے میں مرنے والوں کے سوگ میں لاہور کی تاجر تنظیموں نے جمعرات کو کاروبار بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

انجمن تاجران لاہور اور قومی تاجر اتحاد کا کہنا ہے کہ جمعرات کو تمام بازار نشتر پارک واقعہ کے سوگ میں بند رکھیں جائیں گے۔

جمعہ کو چھ جماعتی مذہبی اتحاد متحدہ مجلس عمل نے اس واقعہ پر ملک گیر احتجاج کرنے کااعلان کیا ہے۔

دھماکوں کے خلاف کراچی میں احتجاج

بدھ کے دن لاہور میں اکثر بازار کھلے رہے تاہم اندرون شہر کی بعض مارکیٹوں میں دکانیں صبح کھلنے کے چند گھنٹوں کے بعد بند کردی گئیں۔ ان میں اعظم مارکیٹ، انارکلی، اردو بازار، گنپت روڈ، اکبری منڈی کی مارکٹیں شامل تھیں۔

کراچی میں بدھ کو کاروبار زندگی مکمل طور پر معطل رہا۔ شہر میں تعلیمی ادارے، کاروباری مراکز اور نجی ادارے بند رہے جبکہ شاہراہوں پر ٹرانسپورٹ بھی نہ ہونے کے برابر رہی۔
کراچی احتجاج
بدھ کے روز کراچی میں پولیس اور مظاہرین کا مقابلہ رہا۔

پاکستان میں فرقہ واریت پر خصوصی ضمیمہ

کراچی دھماکے کی تصاویر

آپ کی آواز: اپنی رائے دیں

سنی تحریک نے بم دھماکے کو اپنی مرکزی قیادت پر حملہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ان کی مرکزی قیادت سمیت دس ذمہ داران ہلاک ہوئے ہیں۔ تحریک کی نگران کمیٹی کے رہنماؤں شاہد غوری، قاری خلیل الرحمان اور انجنئیر عبدالرحمان نے ایک پریس کانفرنس میں حکومت کو ملزمان کی گرفتاری کے لیے اڑتالیس گھنٹے کی مہلت دی۔

سنی تحریک کے رہنماؤں نے اپنی اخباری کانفرنس میں کہا کہ ان کے قائدین کا قتل تحریک کے بانی سلیم قادری کے قتل کا تسلسل ہے اور اس میں بھی وہ ہی ملوث ہیں ’جن کے خلاف ہم عرصے دراز سے پریس کانفرنس کرتے آئے ہیں‘۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت اس واقعے کو خودکش حملہ قرار دے کر اس کو عالمی دہشتگردی سے جوڑنا چاہتی ہے ’جو غلط ہے۔‘

دوسری جانب صوبائی حکومت نے اس خودکش حملے میں ملوث ملزمان کے بارے میں معلومات دینے پر پچاس لاکھ روپے کا اعلان کیا ہے۔

ماضی میں کراچی میں فرقہ وارانہ تشدد کے کئی واقعات ہوئے ہیں لیکن کئی عشروں میں یہ پہلا موقع ہے کہ عیدِ میلاد النبی کے اجتماع کو اس طرح نشانہ بنایا گیا ہو۔ منگل کا دھماکہ سٹیج کے بہت قریب نمازِ مغرب کے وقت ہوا جب لوگ صفیں باندھ چکے تھے۔

یاد رہے کہ کراچی میں نو اپریل کو عید میلادالنبی کی تقریب کے موقع پر بھی محفل میں بھگدڑ مچ جانے سے انتیس عورتیں اور بچے ہلاک اور پچاس زخمی ہوگئے تھے۔